کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُشْمَعِلَّ بْنَ إِيَاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الشَّجَرَةُ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: «هُوَ الْمُشْمَعِلُّ بْنُ عَمْرِو بْنِ إِيَاسٍ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”درخت اور عجوہ کھجور جنت میں سے ہیں۔“
ابوالقاسم (امام طبرانی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ مشمعل بن عمرو بن ایاس ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4441
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 18، حدیث 4456
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ عَمْرٍو، وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَصِيفٌ، يَقُولُ: «الشَّجَرَةُ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا، جبکہ میں اس وقت ایک نوجوان لڑکا تھا: ”درخت اور عجوہ کھجور جنت میں سے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4442
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 18، حدیث 4457
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي، أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنِي، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا، إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالُوا: ثنا هِلَالُ بْنُ عَامِرٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ - قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ: وَصِيفٌ أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ. وَقَالَ يَعْلَى: خُمَاسِيٌّ، أَوْ سُدَاسِيٌّ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، «فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ، وَالنَّاسُ مِنْ بَيْنِ جَالِسٍ وَقَائِمٍ، فَجَلَسَ أَبِي، وتخلَّلْتُ الرِّكَابَ حَتَّى أَتَيْتُ الْبَغْلَةَ، فَأَخَذْتُ بِرِكَابِهِ، وَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رُكْبَتِهِ، فَمَسَحْتُ حَتَّى السَّاقِ حَتَّى بَلَغْتُ بِهَا الْقَدَمَ، ثُمَّ أَدْخَلْتُ كَفِّي بَيْنَ النَّعْلِ وَالْقَدَمِ فَيُخَيَّلُ إِلَيَّ السَّاعَةَ أَنِّي أَجِدُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى كَفِّي» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ الْأُمَوِيِّ
ترجمہ
سیدنا رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ آیا، جبکہ میں ایک کمسن لڑکا تھا، حجۃ الوداع کے موقع پر، تو رسول اللہ ﷺ ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کی بات لوگوں تک پہنچا رہے تھے، اور لوگوں میں سے کچھ بیٹھے تھے اور کچھ کھڑے تھے، تو میرے والد بیٹھ گئے اور میں سواریوں کے درمیان سے گزرتا ہوا خچر تک پہنچ گیا، میں نے اس کی رکاب پکڑی اور اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے گھٹنے پر رکھا، پھر پنڈلی تک ہاتھ پھیرتے ہوئے پاؤں تک پہنچ گیا، پھر میں نے اپنی ہتھیلی جوتے اور پاؤں کے درمیان داخل کی، تو اب بھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنی ہتھیلی پر آپ ﷺ کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کر رہا ہوں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4443
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 18، حدیث 4458