کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سہل بن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو طَاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ، فَنَادَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَمَشَى مَعَهُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ رَجَعَ فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثَرَ الْغُسْلِ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ نِدَاءَكَ وَأَنَا أُجَامِعُ امْرَأَتِي، فَقُمْتُ قَبْلَ أَنْ أَفْرُغَ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ: «إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ»
ترجمہ
سہل بن رافع بن خدیج رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے انہیں آواز دی، وہ آپ ﷺ کی طرف نکل آئے اور آپ ﷺ کے ساتھ چلتے ہوئے مسجد تک پہنچے، پھر وہ واپس گئے اور غسل کیا، پھر لوٹ آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان پر غسل کا اثر دیکھا، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ان سے ان کے غسل کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے آپ ﷺ کی پکار سنی جبکہ میں اپنی بیوی سے مباشرت کر رہا تھا، تو میں (انزال سے) فارغ ہونے سے پہلے ہی اٹھ کھڑا ہوا اور غسل کر لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پانی صرف پانی (کے اخراج) سے واجب ہوتا ہے۔“ پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب دونوں ختنہ گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4359
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 267، حدیث 4374
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّازُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يُوسُفَ الْمِسْكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى زُنْبُورٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَنَهَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ ابْتَعْ هَذَا بِنَقْدٍ واشْتَرِهِ بِنَسِيئَةٍ حَتَّى يَبْتَاعَهُ ويُحْرِزَهُ، وَعَنْ كَالئٍ، بِكَالئٍ وَدَيْنٍ بِدَيْنٍ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ، مزابنہ اور منابذہ سے منع فرمایا، اور اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی سے کہے: یہ نقد خرید لو اور ادھار پر (آگے) بیچ دو، یہاں تک کہ وہ اسے (پہلے) خرید کر اپنے قبضے میں لے لے، نیز آپ ﷺ نے بیعِ کالئ بکالئ (ادھار کے بدلے ادھار) اور قرض کے بدلے قرض سے بھی منع فرمایا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4360
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 267، حدیث 4375