المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سهل بن رافع بن خديج، عن أبيه باب: سہل بن رافع بن خدیج کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 4360
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّازُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يُوسُفَ الْمِسْكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى زُنْبُورٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَنَهَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ ابْتَعْ هَذَا بِنَقْدٍ واشْتَرِهِ بِنَسِيئَةٍ حَتَّى يَبْتَاعَهُ ويُحْرِزَهُ، وَعَنْ كَالئٍ، بِكَالئٍ وَدَيْنٍ بِدَيْنٍ»ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ، مزابنہ اور منابذہ سے منع فرمایا، اور اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی سے کہے: یہ نقد خرید لو اور ادھار پر (آگے) بیچ دو، یہاں تک کہ وہ اسے (پہلے) خرید کر اپنے قبضے میں لے لے، نیز آپ ﷺ نے بیعِ کالئ بکالئ (ادھار کے بدلے ادھار) اور قرض کے بدلے قرض سے بھی منع فرمایا۔“