حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سَوْدَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ ذِي الْأَصَابِعِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِ ابْتُلِينَا بِالْبَقَاءِ بَعْدَكَ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَقَالَ: «عَلَيْكَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ لَعَلَّ اللهُ أَنْ يَرْزُقَكَ ذُرِّيَّةً تَغْدُو إِلَيْهِ وَتَرُوحُ»
ترجمہ
سیدنا ذوالاصابع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم آپ کے بعد زندہ رہنے کی آزمائش میں مبتلا ہوں تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیت المقدس کو لازم پکڑو، شاید اللہ تمہیں ایسی اولاد عطا فرمائے جو صبح و شام اس کی طرف جائے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ ذِي الْأَصَابِعِ، قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنِ ابْتُلِينَا بَعْدَكَ بِالْبَقَاءِ أَيْنَ تَأْمُرُنَا؟، قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَنْشَأَ لَكُمْ ذُرِّيَّةٌ يَغْدُونَ إِلَى ذَلِكَ الْمَسْجِدِ، وَيَرُوحُونَ»
ترجمہ
سیدنا ذوالاصابع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم آپ کے بعد زندہ رہنے کی آزمائش میں مبتلا ہوں تو ہمیں کہاں جانے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیت المقدس کو لازم پکڑو، شاید تمہارے لیے ایسی اولاد پیدا ہو جو اس مسجد کی طرف صبح و شام جایا کرے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مَطِيرٍ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ ذَا الزَّوَائِدِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ قَالَ: «هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: «اللهُمَّ اشْهَدْ» ثُمَّ قَالَ: «خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ غَضًّا فَإِذَا تَجَاحَفَتْ، قُرَيْشٌ بَيْنَهَا الْمُلْكُ وَصَارَ الْعَطَاءُ رِشَاءً عَنْ دِينِكُمْ فَدَعُوهُ»
ترجمہ
سلیم بن مطیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: میں نے ذوالزوائد رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے سال یہ سنا کہ آپ نے لوگوں کو حکم دیا اور کچھ باتوں سے منع کیا، پھر فرمایا: ”کیا میں نے پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ! جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“ پھر فرمایا: ”عطیہ لیتے رہو جب تک وہ تازہ (خالص) رہے، لیکن جب قریش آپس میں اقتدار پر جھگڑنے لگیں اور عطیہ تمہارے دین کے بدلے رشوت بن جائے، تو اسے چھوڑ دو۔“