المعجم الكبير للطبراني
باب الذال— حرف ذال سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذو الأصابع وهو ذو الزوائد باب: سیدنا ذوالاصابع رضی اللہ عنہ، وہی ذوالزوائد ہیں
حدیث نمبر: 4224
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّحْوِيُّ الصُّورِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مَطِيرٍ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ ذَا الزَّوَائِدِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ قَالَ: «هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: «اللهُمَّ اشْهَدْ» ثُمَّ قَالَ: «خُذُوا الْعَطَاءَ مَا دَامَ غَضًّا فَإِذَا تَجَاحَفَتْ، قُرَيْشٌ بَيْنَهَا الْمُلْكُ وَصَارَ الْعَطَاءُ رِشَاءً عَنْ دِينِكُمْ فَدَعُوهُ»ترجمہ
سلیم بن مطیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: میں نے ذوالزوائد رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے سال یہ سنا کہ آپ نے لوگوں کو حکم دیا اور کچھ باتوں سے منع کیا، پھر فرمایا: ”کیا میں نے پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ! جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“ پھر فرمایا: ”عطیہ لیتے رہو جب تک وہ تازہ (خالص) رہے، لیکن جب قریش آپس میں اقتدار پر جھگڑنے لگیں اور عطیہ تمہارے دین کے بدلے رشوت بن جائے، تو اسے چھوڑ دو۔“