کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا ذواللحیہ کلابی رضی اللہ عنہ، وہ عمرو بن قرط بن ابی بکر بن عبداللہ بن کلاب ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمُّويَهِ أَبُو سَيَّارٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا شَبَّابٌ الْعُصْفُرِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ أَسْلَمَ الْعَدَوِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَنْصُورٍ، عَنْ ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَعْمَلُ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ أَوْ أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ قَالَ: «بَلْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ» قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ذواللحیہ کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: کیا ہم کسی ایسے معاملے میں عمل کر رہے ہیں جو نیا شروع ہو رہا ہے یا ایسے معاملے میں جو پہلے سے طے ہو چکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ایسے معاملے میں جو پہلے سے طے ہو چکا ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: پھر عمل کس لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر شخص کے لیے وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ، عَنْ ذِي اللِّحْيَةِ الْكِلَابِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَعْمَلُ فِي أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ أَوْ أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ؟ قَالَ: «لَا بَلْ فِي أَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ» قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ذواللحیہ کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم کسی ایسے معاملے میں عمل کر رہے ہیں جو نیا شروع ہو رہا ہے یا ایسے معاملے میں جو پہلے سے طے ہو چکا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ایسے معاملے میں جو پہلے سے طے ہو چکا ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: پھر عمل کس لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، ہر شخص کے لیے وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“