المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خالد أبو نافع الخزاعي باب: سیدنا خالد ابونافع خزاعی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ صَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً تَامَّةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَجَلَسَ يَوْمًا، فَأَطَالَ الْجُلُوسَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ أَنِ اسْكُتُوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوحَى إِلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللهِ أَطَلْتَ الْجُلُوسَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْكَ فَقَالَ: «لَا وَلَكِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ اللهَ فِيهَا ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُعَذِّبَكُمْ بِعَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ مَنْ قَبْلَكُمْ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى عَامَّتِكُمْ عَدُوًّا يَسْتَبِيحُهَا، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا» قُلْتُ لَهُ: أَبُوكَ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَدَ أَصَابِعِي هَذِهِ الْعَشْرِ الْأَصَابِعِسیدنا خالد ابونافع خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھاتے اور لوگ آپ ﷺ کے ارد گرد ہوتے تو آپ ﷺ ہلکی مگر رکوع و سجود مکمل نماز پڑھاتے، تو ایک دن آپ ﷺ بیٹھے تو بیٹھنا طویل کر دیا یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے بعض کو اشارہ کیا کہ خاموش رہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو بعض لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے بیٹھنا اتنا طویل کر دیا کہ ہم میں سے بعض نے بعض کی طرف اشارہ کیا کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ امید اور خوف کی نماز تھی، میں نے اس میں اللہ سے تین چیزیں مانگیں، اس نے مجھے دو عطا کیں اور ایک سے منع فرما دیا۔ میں نے دعا کی کہ تم پر ایسا عذاب نازل نہ کرے جیسا تم سے پہلے لوگوں پر آیا تھا۔ اور میں نے دعا کی کہ تمہاری جماعت پر کسی دشمن کو مسلط نہ کرے جو اسے تباہ کر دے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دی۔ اور میں نے دعا کی کہ تمہیں فرقوں میں تقسیم نہ کرے اور تمہیں ایک دوسرے کی سختی نہ چکھائے، تو اس نے یہ نہیں دی۔“ (ابومالک اشجعی کہتے ہیں:) میں نے نافع سے پوچھا: کیا آپ کے والد نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے انہیں یہ کہتے سنا کہ انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے، ان دس انگلیوں کی گنتی جتنی مرتبہ، سنی تھی۔