کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبداللہ بن حنین کی سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ فَأَرْسَلَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَوَجَدَهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» ، فَقُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ: فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَنِي، ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ: اصْبُبْ، «فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ» ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ
ترجمہ
عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: محرم اپنا سر نہیں دھوتا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، میں نے انہیں دو کنوؤں کے درمیان غسل کرتے پایا جبکہ وہ ایک کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے پوچھا: ”کون ہے؟“ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے آپ کی طرف عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے کہ میں آپ سے پوچھوں: رسول اللہ ﷺ احرام کی حالت میں اپنا سر کیسے دھوتے تھے؟ راوی کہتے ہیں: تو ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور مجھے جھکایا، پھر ایک آدمی سے جو ان پر پانی ڈال رہا تھا کہا: ڈالو۔ تو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر ہلایا، آگے سے لے گئے اور پیچھے لائے، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَمَارَى ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فِي غَسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهِ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيْ بِئْرٍ، فَلَمَّا رَآنِي ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي ابْنُ أَخِيكَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَيْكَ يَسْأَلُكَ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ «فَصَبَّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ» فَقَالَ: هَكَذَا، وَقَالَ: بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ أَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ
عبداللہ بن حنین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب انہوں نے مجھے دیکھا تو اپنی طرف کپڑا سمیٹ لیا، تو میں نے عرض کیا: آپ کے بھتیجے ابن عباس نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ آپ سے پوچھوں: آپ نے رسول اللہ ﷺ کو احرام کی حالت میں اپنے سر پر پانی ڈالتے کیسے دیکھا تھا؟ تو انہوں نے اپنے سر پر پانی ڈالا اور فرمایا: اس طرح، اور اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر تین بار آگے سے پیچھے لے گئے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِالْمَاءِ مِنْ غَيْرِ جَنَابَةٍ فَأَرْسَلَانِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، وَهُوَ فِي بَعْضِ مِيَاهِ مَكَّةَ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَجِئْتُهُ فَوَجَدْتُ أَبَا أَيُّوبَ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ قَدْ سَتَرَ بِثَوْبٍ، فَسَأَلْتُهُ «فَطَأْطَأَ الثَّوْبَ بِيَدِهِ حَتَّى بَدَا رَأْسُهُ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ وَشَعْرَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ فِي شَعْرِهِ وَأَدْبَرَ» ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ. قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ
ترجمہ
راوی فرماتے ہیں: میں مکہ کے کسی پانی کے مقام پر ان سے یہ سوال پوچھنے گیا، تو میں نے ابوایوب رضی اللہ عنہ کو دو کنوؤں کے درمیان اپنا سر دھوتے پایا جبکہ وہ کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھے، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے کپڑا جھکایا یہاں تک کہ ان کا سر ظاہر ہو گیا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر اور بال ہلائے، اپنے ہاتھ اپنے بالوں میں آگے لے گئے اور پیچھے لائے، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو احرام کی حالت میں اسی طرح غسل کرتے دیکھا تھا۔ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر میں ان کے پاس واپس گیا اور انہیں بتایا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ بِالْأَبْوَاءِ فَتَحَدَّثْنَا حَتَّى ذَكَرَا غَسْلَ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ، قَالَ الْمِسْوَرُ: لَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلَى، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ السَّلَامَ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَيَسْأَلُكَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ وَيَغْسِلُ رَأْسَهُ إِذَا كَانَ مُحْرِمًا؟ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيْ بِئْرٍ قَدْ سَتَرَ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ، فَلَمَّا انْتَسَبْتُ إِلَيْهِ وَسَأَلْتُهُ ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَيْهِ حَتَّى بَدَا لِي وَجْهُهُ وَرَأْسُهُ، وَإِنْسَانٌ قَائِمٌ عَلَى الْبِئْرِ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ «فَأَمَرَّ أَبُو أَيُّوبَ يَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ» فَقَالَ الْمِسْوَرُ، لِابْنِ عَبَّاسٍ: لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا، «وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ جُرَيْجٍ»
ترجمہ
راوی فرماتے ہیں: جب میں نے اپنا تعارف کرایا اور ان سے سوال پوچھا تو انہوں نے اپنی طرف کپڑا سمیٹ لیا یہاں تک کہ مجھے ان کا چہرہ اور سر نظر آنے لگا، اور ایک آدمی کنویں پر کھڑا ان پر پانی ڈال رہا تھا، تو ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سر پر پھیرے، آگے سے پیچھے لے گئے۔ تو مسور رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں اب کبھی آپ سے بحث نہیں کروں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو احرام کی حالت میں اپنا سر دھوتے دیکھا۔