کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: معانق، یا ابومعانق، یا ابن معانق کی سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایات (ان کا نام شک کے ساتھ اسی طرح روایت کیا جاتا ہے)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قِيرَاطٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَمَاتَ يَعْبُدُ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا؛ فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ هَاجَرَ أَوْ قَعَدَ فِي مَوْلِدِهِ» . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ حَدَّثْتُ بِهَا النَّاسَ يَطْمَئِنُّوا إِلَيْهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ أَعَدَّ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ مِائَةَ دَرَجَةٍ، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَلَوْ كَانَ عِنْدِي مَا أَتَقَوَّى بِهِ وَأُقَوِّي الْمُسْلِمِينَ، أَوْ بِأَيْدِيهِمْ مَا يُنْفِقُونَ بِهِ، مَا انْطَلَقَتْ سَرِيَّةٌ إِلَّا كُنْتُ صَاحِبَهَا، وَلَكِنْ لَيْسَ ذَاكَ بِيَدِي وَلَا بِأَيْدِيهِمْ، وَلَوْ خَرَجْتُ مَا بَقِيَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا انْطَلَقَ مَعِي، وَذَلِكَ يَشُقُّ عَلَيَّ، فَلَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَى ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَى فَأُقْتَلَ»
ترجمہ
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کی عبادت کرتے ہوئے اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا؛ تو اللہ عزوجل پر یہ حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، چاہے اس نے ہجرت کی ہو یا اپنی جائے پیدائش میں ہی بیٹھا رہا ہو۔“ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں یہ بات لوگوں کو بتا دوں تو وہ اسی پر اطمینان کر بیٹھیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے سو درجے تیار کیے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ اگر میرے پاس اتنا ہوتا کہ میں خود بھی طاقت پکڑتا اور مسلمانوں کو بھی طاقت دیتا، یا ان کے ہاتھوں میں اتنا ہوتا کہ وہ خرچ کر سکتے، تو کوئی لشکر ایسا روانہ نہ ہوتا جس کا میں خود ساتھی نہ ہوتا، لیکن یہ نہ میرے ہاتھ میں ہے نہ ان کے ہاتھ میں۔ اور اگر میں نکل کھڑا ہوتا تو جس میں بھی کچھ بھلائی ہوتی وہ میرے ساتھ ضرور چل پڑتا، اور یہ بات مجھ پر گراں گزرتی ہے۔ پس میں چاہتا ہوں کہ میں جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کر دیا جاؤں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3451
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 300، حدیث 3464
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قِيرَاطٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَأَلَ اللهَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِهِ صَادِقًا عَنْ نَفْسِهِ، ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ، لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ، وَمَنْ خَرَجَ بِهِ جِرَاحٌ فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دل کی گہرائی سے سچائی کے ساتھ اللہ سے اس کے راستے میں قتل ہونے کا سوال کیا، پھر وہ مر گیا یا قتل کر دیا گیا، تو اسے شہید کا اجر ملے گا۔ اور جو اللہ کے راستے میں زخمی ہوا یا کسی مصیبت کا شکار ہوا، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم اپنی تازگی میں سب سے بڑھ کر ہوگا، اس کا رنگ زعفران جیسا اور اس کی خوشبو مشک جیسی ہوگی۔ اور جو اللہ کے راستے میں زخم لے کر نکلا اس پر شہداء کی مہر ہوگی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3452
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 300، حدیث 3465
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُعَانِقٍ أَوْ أَبِي مُعَانِقٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَلَانَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصَّلَاةَ، وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ»
ترجمہ
سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک ایسا بالاخانہ ہے جس کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے، اللہ نے اسے اس شخص کے لیے تیار کیا ہے جو کھانا کھلائے، نرم گفتگو کرے، نماز کی پابندی کرے، اور رات کو اس وقت کھڑا ہو جب لوگ سوئے ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3453
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 301، حدیث 3466
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي أَبُو مُعَانِقٍ الْأَشْعَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يَرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ»
ترجمہ
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے، اللہ عزوجل نے انہیں اس شخص کے لیے تیار کیا ہے جو کھانا کھلائے، مسلسل روزے رکھے، اور رات کو نماز پڑھے جب لوگ سوئے ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3454
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 301، حدیث 3467