حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نَسِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ هِلَالٍ السُّلَمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ فَرَاغِهِ مِنْ طَعَامِهِ: «اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ وَأَشْبَعْتَ وَأَرْوَيْتَ، لَكَ الْحَمْدُ غَيْرَ مَكْفُورٍ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْكَ رَبَّنَا»
ترجمہ
سیدنا حارث بن حارث غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے سے فارغ ہوتے وقت یہ فرماتے سنا: ”اے اللہ! تیرے ہی لیے حمد ہے، تو نے کھلایا اور پلایا، اور سیر کیا اور سیراب کیا، تیرے لیے ایسی حمد ہے جو نہ ناشکری کی جائے، نہ چھوڑی جائے اور نہ ہی اے ہمارے رب! تجھ سے بے نیازی برتی جائے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَامِدِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: مَا هَذِهِ الْجَمَاعَةُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ قَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى صَابِئٍ لَهُمْ. قَالَ: فَنَزَلْنَا فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى تَوْحِيدِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْإِيمَانِ بِهِ، وَهُمْ يَرُدُّونَ عَلَيْهِ وَيُؤْذُونَهُ، حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ وَانْصَدَعَ عَنْهُ النَّاسُ، وَأَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ قَدْ بَدَا نَحْرُهَا تَحْمِلُ قَدَحًا وَمِنْدِيلًا، فَتَنَاوَلَهُ مِنْهَا وَشَرِبَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: «يَا بُنَيَّةُ خَمِّرِي عَلَيْكِ نَحْرَكِ، وَلَا تَخَافِي عَلَى أَبِيكِ» . قُلْنَا: مَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: زَيْنَبُ بِنْتُهُ
ترجمہ
سیدنا حارث بن حارث غامدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ...یہاں تک کہ دن آدھا ہو گیا اور لوگ آپ ﷺ کے پاس سے چھٹ گئے، تو ایک عورت آئی جس کا گلا کھلا ہوا تھا، وہ ایک پیالہ اور رومال لیے ہوئے تھی، آپ ﷺ نے اس سے وہ لے کر پیا اور وضو کیا، پھر سر اٹھا کر فرمایا: ”اے بیٹی! اپنا گلا ڈھانپ لو، اور اپنے باپ کے بارے میں خوف مت کھاؤ۔“ ہم نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: آپ ﷺ کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا ہیں۔