کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا حکم بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَتْ بِنْتُ الْحَكَمِ: قُلْتُ لِجَدِّي الْحَكَمِ: مَا رَأَيْتُ قَوْمًا كَانُوا أَعْجَزَ وَلَا أَسْوَأَ فِي أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ يَا بَنِي أُمَيَّةَ. قَالَ: " لَا تَلُومِينَا يَا بُنَيَّةُ، إِنِّي لَا أُحَدِّثُكِ إِلَّا مَا رَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ هَاتَيْنِ، قُلْنَا: وَاللهِ مَا نَزَالُ نَسْمَعُ قُرَيْشًا تُعْلِي هَذَا الصَّابِئَ فِي مَسْجِدِنَا، تَوَاعَدُوا لَهُ حَتَّى نَأْخُذَهُ، فَتَوَاعَدْنَا إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ سَمِعْنَا صَوْتًا ظَنَنَّا أَنَّهُ مَا بَقِيَ بِتِهَامَةَ جَبَلٌ إِلَّا تَفَتَّتَ عَلَيْنَا، فَمَا عَقَلْنَا حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ وَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، ثُمَّ تَوَاعَدْنَا لَيْلَةً أُخْرَى، فَلَمَّا جَاءَ نَهَضْنَا إِلَيْهِ، فَرَأَيْتُ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ الْتَقَتَا إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى، فَحَالَتَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَوَاللهِ مَا نَفَعَنَا ذَلِكَ "
ترجمہ
حکم رضی اللہ عنہ کی بیٹی کہتی ہیں: میں نے اپنے دادا حکم رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں تم بنو امیہ سے زیادہ کمزور اور برا کوئی قوم نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا: بیٹی! ہمیں ملامت نہ کرو، میں تمہیں صرف وہی بتاؤں گا جو میں نے اپنی انہی دو آنکھوں سے دیکھا۔ ہم کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! ہم قریش کو سنتے رہتے تھے کہ وہ ہماری مسجد میں اس صابی (دین سے پھرنے والے) کو برا بھلا کہتے، انہوں نے آپس میں وعدہ کیا کہ ہم اسے پکڑ لیں گے، ہم نے بھی ان کے ساتھ اس بات کا وعدہ کیا، پھر جب ہم نے آپ ﷺ کو دیکھا تو ہم نے ایک آواز سنی، ہمیں لگا کہ تہامہ میں کوئی پہاڑ ایسا نہیں بچا جو ہم پر ٹوٹ نہ پڑا ہو، چنانچہ ہمیں کچھ ہوش نہ رہا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی نماز مکمل کر لی اور اپنے گھر واپس چلے گئے، پھر ہم نے دوسری رات کا وعدہ کیا، جب آپ ﷺ آئے تو ہم آپ کی طرف بڑھے، تو میں نے دیکھا کہ صفا اور مروہ ایک دوسرے سے آ ملے اور ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان حائل ہو گئے، اللہ کی قسم! اس کے باوجود بھی ہمیں کچھ فائدہ نہ ہوا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3153
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 213، حدیث 3166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، ثنا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْمَدَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: كَانَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ يَجْلِسُ عِنْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَجَ أَوَّلًا، فَبَصُرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَنْتَ كَذَاكَ» . فَمَا َزَالُ يَخْتَلِجُ حَتَّى مَاتَ
ترجمہ
(روایت ہے کہ) حکم بن ابی العاص نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا کرتا تھا، جب نبی کریم ﷺ گفتگو فرماتے تو وہ (طنزاً چہرے سے) پہلے حرکت کرتا، نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھ لیا تو فرمایا: ”تم ایسے ہی ہو جاؤ۔“ چنانچہ وہ مرتے دم تک اسی طرح (چہرے کی) حرکت میں مبتلا رہا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3154
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 214، حدیث 3167
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ عِيسَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ، قِيلَ لَهُ فِي الْحَكَمِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، فَقَالَ: «مَا كُنْتُ لِأَحُلَّ عُقْدَةً عَقَدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو ان سے حکم بن ابی العاص کے بارے میں بات کی گئی، تو انہوں نے فرمایا: ”میں وہ گرہ نہیں کھولوں گا جو رسول اللہ ﷺ نے باندھی تھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3155
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 214، حدیث 3168