حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَصْدُرِ الْمُصَدِّقُونَ إِلَّا عَنْ رِضًى»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”زکاۃ وصول کرنے والے راضی ہو کر ہی لوٹیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَالشَّعْبِيِّ، قَالَا: قَالَ جَرِيرٌ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أُبَايِعُكَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا أَحْبَبْتُ وَكَرِهْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَا جَرِيرُ؟ أَوْ تُطِيقُ ذَلِكَ؟ قُلْ مَا اسْتَطَعْتُ» ، قَالَ: قُلْتُ: مَا اسْتَطَعْتُ قَالَ: فَبَايَعَنِي وَعَلَى النُّصْحِ لِلْمُسْلِمِ
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو عرض کی: میں آپ سے ہر حال میں، چاہے پسند ہو یا ناپسند، سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کرتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو، اے جریر؟ یا کیا تم اس کی استطاعت رکھتے ہو؟ کہو: جس قدر مجھ سے ہو سکے۔“ کہتے ہیں: میں نے کہا: جس قدر مجھ سے ہو سکے۔ کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے مجھ سے بیعت لی، اور ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے پر بھی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَ جَرِيرٌ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ وَإِنْ مَاتَ مَاتَ كَافِرًا» فَأَبَقَ غُلَامٌ لِجَرِيرٍ فَأَخَذَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: «مَعْنَاهُ أَنَّهُ كَفَرَ وَلَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ»
ترجمہ
شعبی کہتے ہیں: سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے: ”جب غلام بھاگ جائے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی، اور اگر وہ اسی حال میں مر جائے تو کافر مرے گا۔“ کہتے ہیں: پھر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اسے پکڑ کر اس کی گردن اڑا دی۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ (نعمت کا) کفر کر بیٹھا اور دار الحرب سے جا ملا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ (نعمت کا) کفر کر بیٹھا اور دار الحرب سے جا ملا۔