کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عاصم بن بہدلہ کی ابووائل کے واسطے سے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اشْتَرِطْ عَلَيَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالشَّرْطِ مِنِّي قَالَ: «أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللهَ لَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَنْصَحَ الْمُسْلِمَ، وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكَ»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھ پر شرط رکھیے، آپ شرط کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تجھ سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تو اللہ کی عبادت کرے گا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا، نماز قائم کرے گا، زکاۃ ادا کرے گا، مسلمان کی خیرخواہی کرے گا، اور مشرک سے علیحدگی اختیار کرے گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اشْتَرِطْ عَلَيَّ فَإِنَّكَ أَعْلَمُ، قَالَ: «اعْبُدِ اللهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَنْصَحُ الْمُسْلِمَ، وَتَبْرَأُ مِنَ الْكَافِرِ»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھ پر شرط رکھیے، آپ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، مسلمان کی خیرخواہی کرو، اور کافر سے بری الذمہ ہو جاؤ۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ اشْتَرِطْ عَلَيَّ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالشَّرْطِ مِنِّي ثُمَّ ابْسُطْ يَدَكَ فَأُبَايِعَكَ، قَالَ: «تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَنْصَحُ الْمُسْلِمَ، وَتُفَارِقُ الْمُشْرِكَ»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھ پر شرط رکھیے، آپ شرط کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، پھر اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کی عبادت کرے گا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گا، نماز قائم کرے گا، زکاۃ ادا کرے گا، مسلمان کی خیرخواہی کرے گا، اور مشرک سے علیحدگی اختیار کرے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ سَلَّامْ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُهَاجِرُونَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مہاجرین دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور قریش کے طلقاء اور ثقیف کے عتقاء بھی دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ»
ترجمہ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مہاجرین اور انصار دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور قریش کے طلقاء اور ثقیف کے عتقاء بھی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجْتَابِي النِّمَارِ فَسَأَلُوهُ فَحَثَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا بِهَا حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِقِطْعَةِ تِبْرٍ فَأَلْقَاهَا فَتَتَابَعَ النَّاسُ فِي الصَّدَقَةِ حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهَا وَأَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ»
ترجمہ
(سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی سونے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور اسے ڈال دیا، پھر لوگ صدقہ دینے میں ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر خوشی نمایاں ہو گئی، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اسے اس کا اور اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرے اور اس پر عمل کیا جائے، تو اس پر اس کا اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ہوگا، بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی ہو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ حَتَّى رُؤِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِذَهَبَةٍ فَنَبَذَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُؤِيَ السُّرُورُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فِي الْإِسْلَامِ فَعُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمَثَلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فِي الْإِسْلَامِ فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَمَثَلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ»
ترجمہ
(سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی سونا لے کر آیا اور اسے نبی کریم ﷺ کے سامنے ڈال دیا، تو رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر خوشی دیکھی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اسے اس کا ثواب اور اس پر عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا، ان کے ثواب میں کوئی کمی کیے بغیر۔ اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اس پر اس کا گناہ اور اس پر عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ہوگا، ان کے گناہ میں کوئی کمی کیے بغیر۔“