❮
❯
حدیث نمبر: 2299
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجْتَابِي النِّمَارِ فَسَأَلُوهُ فَحَثَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَبْطَئُوا بِهَا حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِقِطْعَةِ تِبْرٍ فَأَلْقَاهَا فَتَتَابَعَ النَّاسُ فِي الصَّدَقَةِ حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهَا وَأَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ»
ترجمہ

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دیہات کے کچھ لوگ دھاری دار اونی چادریں اوڑھے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے سوال کیا۔ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی تو انہوں نے اس میں دیر کی، یہاں تک کہ اس کا اثر رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر پہچانا گیا۔ پھر انصار میں سے ایک آدمی سونے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور اسے ڈال دیا، پھر لوگ صدقہ دینے میں ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر خوشی نمایاں ہو گئی، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کوئی اچھا طریقہ رائج کرے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اسے اس کا اور اس پر عمل کرنے والوں کا ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ اور جو شخص کوئی برا طریقہ رائج کرے اور اس پر عمل کیا جائے، تو اس پر اس کا اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ ہوگا، بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2299
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 315، حدیث 2312