حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ كَانَ فِي الْحَرَّةِ هُوَ وَوَلَدُهُ وَكَانَ يَغْشَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ فَإِذَا أَمْسَى أَتَى أَهْلَهُ فَمَاتَتْ نَاقَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: أَطْعِمْنَا لَحْمَهَا فَإِنَّا مُضْطَرُّونَ، قَالَ: لَا وَاللهِ حَتَّى أُعْلِمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «اذْهَبْ فَكُلْهَا» فَاسْتَذَابُوا وَدَكَهَا واسْتَعَانُوا بِلَحْمِهَا بَقِيَّةَ سَنَتِهِمْ
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو سلیم کا ایک شخص آیا جو اپنی اولاد کے ساتھ حرہ میں رہتا تھا، اور مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، پھر جب شام ہوتی تو اپنے گھر والوں کے پاس چلا جاتا۔ اس کی ایک اونٹنی مر گئی، تو اس کی بیوی نے اس سے کہا: ہمیں اس کا گوشت کھلاؤ، ہم مجبور ہیں۔ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، جب تک میں رسول اللہ ﷺ کو اطلاع نہ دے دوں۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو خبر دی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی گزارے کی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اسے کھاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے اس کی چربی پگھلائی اور اس کے گوشت سے باقی سال گزارہ کیا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ سُفْيَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَهْمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا» ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَسْمَعْهُ فَزَعَمَ الْقَوْمُ أَنَّهُ قَالَ: «كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”بارہ امیر ہوں گے“، پھر آپ ﷺ نے کچھ ایسی بات فرمائی جو میں نے نہ سنی، تو لوگوں نے بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ سُفْيَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَهْمِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «لَا يَقُومُ مِنْ مَكَانِهِ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس جگہ نماز پڑھتے وہاں سے سورج طلوع ہونے تک نہیں اٹھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فُلَانًا مَاتَ قَالَ: «لَمْ يَمُتْ» ثَلَاثًا يَقُولُهَا
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: فلاں شخص فوت ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا“، آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَهْمِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثُومٌ «فَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں لہسن تھا، تو آپ ﷺ نے اسے ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدَّشْتَكِيُّ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْغَدَاةَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو اپنا ہاتھ بڑھایا، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔