❮
❯
حدیث نمبر: 2030
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ كَانَ فِي الْحَرَّةِ هُوَ وَوَلَدُهُ وَكَانَ يَغْشَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ فَإِذَا أَمْسَى أَتَى أَهْلَهُ فَمَاتَتْ نَاقَةٌ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: أَطْعِمْنَا لَحْمَهَا فَإِنَّا مُضْطَرُّونَ، قَالَ: لَا وَاللهِ حَتَّى أُعْلِمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «اذْهَبْ فَكُلْهَا» فَاسْتَذَابُوا وَدَكَهَا واسْتَعَانُوا بِلَحْمِهَا بَقِيَّةَ سَنَتِهِمْ
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو سلیم کا ایک شخص آیا جو اپنی اولاد کے ساتھ حرہ میں رہتا تھا، اور مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، پھر جب شام ہوتی تو اپنے گھر والوں کے پاس چلا جاتا۔ اس کی ایک اونٹنی مر گئی، تو اس کی بیوی نے اس سے کہا: ہمیں اس کا گوشت کھلاؤ، ہم مجبور ہیں۔ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم، جب تک میں رسول اللہ ﷺ کو اطلاع نہ دے دوں۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو خبر دی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی گزارے کی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اسے کھاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے اس کی چربی پگھلائی اور اس کے گوشت سے باقی سال گزارہ کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2030
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 248، حدیث 2043