حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خُطْبَةً أُخْرَى عَلَى مِنْبَرِهِ، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ رآه يَخْطُبُ قَاعِدًا فَلَا تُصَدِّقْهُ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ ﷺ خاموشی سے تھوڑی دیر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر اپنے منبر پر دوسرا خطبہ دیتے۔ جو تمہیں بتائے کہ اس نے آپ ﷺ کو بیٹھ کر خطبہ دیتے دیکھا ہے تو اس کی تصدیق مت کرنا۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ وَيُؤَخِّرُ الْعَتَمَةَ بَعْدَ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا وَكَانَ يَخِفُّ الصَّلَاةَ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نمازیں تقریباً اسی طرح پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو، البتہ عشاء کی نماز تمہاری نماز سے کچھ تاخیر سے پڑھتے تھے، اور آپ ﷺ نماز ہلکی پڑھاتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الْأَبْيَضِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”مسلمانوں کی، یا فرمایا: مومنوں کی ایک جماعت ضرور آل کسریٰ کا وہ خزانہ فتح کرے گی جو سفید محل میں ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَا»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ ﷺ کو، یعنی نبی کریم ﷺ کو، سنا کہ آپ ﷺ نے مدینہ کا نام طابا رکھا۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: مَاتَ بَغْلٌ عِنْدَ رَجُلٍ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ فَزَعَمَ جَابِرٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِصَاحِبِهِ: «أَمَا لَكَ مَا يُغْنِيكَ عَنْهَا؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «اذْهَبْ فَكُلْهَا»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی کا خچر مر گیا تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس فتویٰ پوچھنے آیا۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے مالک سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور گزر بسر کا ذریعہ نہیں؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اسے کھاؤ۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”قیامت سے پہلے بہت سے جھوٹے پیدا ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَاعِزًا حِينَ جِيءَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَعْضَلُ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَعَلَّكَ» ، قَالَ: لَا وَاللهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الْآخَرُ فَرَجَمَهُ، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: «أَلَا كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللهِ خَلَّفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ. أَمَا إِنَّ اللهَ يُمَكِنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا نَكَّلْتُهُ عَنْهُنَّ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ماعز کو دیکھا جب اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، وہ ایک پستہ قد، مضبوط جسم والا آدمی تھا، اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم سے کچھ اور سرزد ہوا ہو (زنا نہ ہوا ہو)۔“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اس نے (پوری طرح) زنا کیا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے رجم کر دیا، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: ”سن لو! جب بھی ہم اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں تو ہم میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور بکرے کی سی آواز نکالتا ہے (یعنی فحش کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے)، وہ کسی عورت کو تھوڑا سا دودھ دے دیتا ہے، خبردار! اللہ مجھے ان میں سے جس پر بھی قدرت دے گا، میں اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ مَاعِزًا وَلَمْ يَذْكُرْ جَلْدًا»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ماعز کو رجم کیا اور کوڑے مارنے کا ذکر نہیں کیا۔