حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «مَا كَانَ فِي رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي لِحْيَتِهِ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا شَعَرَاتٍ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ إِذَا ادَّهَنَ وَارَاهُنَّ الدُّهْنُ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے سر اور داڑھی میں صرف چند بال سفید تھے، جو سر کے بیچ کی مانگ میں تھے، جب آپ ﷺ تیل لگاتے تو وہ چھپ جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرٍو الْوَكِيعِيُّ، قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ عُثْمَانَ اللَّاحِقِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: «إِنَّ الْإِسْلَامَ لَا يَزَالُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً» ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً لَمْ أَفْهَمْهَا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اسلام بارہ خلفاء تک عزت والا رہے گا“، پھر آپ ﷺ نے ایک ایسی بات فرمائی جو میں سمجھ نہ سکا، تو میں نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے بتایا: آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَنَحْوِهِمَا»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر اور عصر کی نمازوں میں سورۃ ”والسماء ذات البروج“ اور سورۃ ”والسماء والطارق“ اور ان جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ مَاعِزًا وَلَمْ يَذْكُرْ جَلْدًا»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ماعز کو رجم کیا، اور کوڑے مارنے کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: «أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اذان دے دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے بہت سے جھوٹے پیدا ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانُوا يَقُولُونَ: الْمَدِينَةُ ويَثْرِبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّاهَا طَابَةَ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ (مدینہ کو) ”مدینہ“ اور ”یثرب“ کہا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اس کا نام طابہ رکھا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالْحَرَّةِ وَمَعَهُ امْرَأَةٌ لَهُ، فَأَضَلَّ رَجُلٌ بَعِيرًا لَهُ فَوَجَدَهُ الرَّجُلُ الَّذِي بِالْحَرَّةِ، فَحَبَسَهُ عِنْدَهُ وَمَرِضَ الْبَعِيرُ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: لَوْ ذَبَحْتَهُ وقَدَدْنَا لَحْمَهُ وشَحْمَهُ فأَكَلْنَاها، فَأَبَى عَلَيْهَا حَتَّى مَاتَ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " هَلْ لَكُمُ شَيْءٌ يُعِيشُكُمْ غَيْرَ ذَلِكَ؟، أَوْ قَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ يُعِيشُكَ غَيْرَ ذَلِكَ؟» ، قَالَ: لَا قَالَ: «فَقَدِّدُوا شَحْمَهُ وَلَحْمَهُ وَكُلُوهُ» . وَجَاءَ صَاحِبُ الْبَعِيرِ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَلَّا كُنْتَ نَحَرْتَهُ؟ فَقَالَ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ
ترجمہ
…وہ اس (جانور) کے بارے میں انکار کرتا رہا یہاں تک کہ وہ مر گیا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور گزر بسر کا ذریعہ ہے؟“، یا فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے سوا کوئی اور گزارے کی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی چربی اور گوشت کو خشک کر لو اور کھاؤ۔“ اس کے بعد اونٹ کا مالک آیا تو اس نے کہا: تم نے اسے ذبح کیوں نہ کیا؟ اس نے کہا: میں نے تم سے شرم کی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَتَتَبَّعُ أَصَابِعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَصَابِعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِصَفْحَةٍ فَوَجَدَ فِيهَا رِيحَ ثُومٍ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَلَمْ يَرَ أَبُو أَيُّوبَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ، فَقَالَ: «إِنِّي وَجَدْتُ فِيهَا أَثَرَ ثُومٍ» ، فَقَالَ: بَعَثْتَ إِلَيَّ بِمَا لَا تَأْكُلُهُ، فَقَالَ: «إِنَّهُ يَأْتِينِي الْمَلَكُ»
ترجمہ
…اور اس (کھانے) کو ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس میں نبی کریم ﷺ کی انگلیوں کا نشان نہ پایا، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس میں آپ کی انگلیوں کا نشان نہیں دیکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس میں لہسن کی بو محسوس ہوئی۔“ انہوں نے عرض کیا: آپ نے مجھے وہ چیز بھیج دی جو خود تناول نہیں کرتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس فرشتہ آتا ہے۔“