حدیث نمبر: 1966
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَاعِزًا حِينَ جِيءَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَعْضَلُ، فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ أَنَّهُ قَدْ زَنَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَعَلَّكَ» ، قَالَ: لَا وَاللهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَى الْآخَرُ فَرَجَمَهُ، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: «أَلَا كُلَّمَا نَفَرْنَا فِي سَبِيلِ اللهِ خَلَّفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ كَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْكُثْبَةَ. أَمَا إِنَّ اللهَ يُمَكِنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا نَكَّلْتُهُ عَنْهُنَّ»
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ماعز کو دیکھا جب اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، وہ ایک پستہ قد، مضبوط جسم والا آدمی تھا، اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم سے کچھ اور سرزد ہوا ہو (زنا نہ ہوا ہو)۔“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اس نے (پوری طرح) زنا کیا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے رجم کر دیا، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: ”سن لو! جب بھی ہم اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں تو ہم میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور بکرے کی سی آواز نکالتا ہے (یعنی فحش کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے)، وہ کسی عورت کو تھوڑا سا دودھ دے دیتا ہے، خبردار! اللہ مجھے ان میں سے جس پر بھی قدرت دے گا، میں اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1966
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 235، حدیث 1979