❮
❯
حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالْحَرَّةِ وَمَعَهُ امْرَأَةٌ لَهُ، فَأَضَلَّ رَجُلٌ بَعِيرًا لَهُ فَوَجَدَهُ الرَّجُلُ الَّذِي بِالْحَرَّةِ، فَحَبَسَهُ عِنْدَهُ وَمَرِضَ الْبَعِيرُ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: لَوْ ذَبَحْتَهُ وقَدَدْنَا لَحْمَهُ وشَحْمَهُ فأَكَلْنَاها، فَأَبَى عَلَيْهَا حَتَّى مَاتَ فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " هَلْ لَكُمُ شَيْءٌ يُعِيشُكُمْ غَيْرَ ذَلِكَ؟، أَوْ قَالَ: «هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ يُعِيشُكَ غَيْرَ ذَلِكَ؟» ، قَالَ: لَا قَالَ: «فَقَدِّدُوا شَحْمَهُ وَلَحْمَهُ وَكُلُوهُ» . وَجَاءَ صَاحِبُ الْبَعِيرِ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَلَّا كُنْتَ نَحَرْتَهُ؟ فَقَالَ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ
ترجمہ

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حرہ (پتھریلے علاقے) میں تھا اور اس کے ساتھ اس کی بیوی تھی۔ ایک شخص کا اونٹ گم ہو گیا تو حرہ میں رہنے والے اس شخص نے اسے پا لیا اور اپنے پاس روک لیا، پھر وہ اونٹ بیمار ہو گیا۔ اس کی بیوی نے اس سے کہا: کاش تم اسے ذبح کر دیتے تو ہم اس کے گوشت اور چربی کو خشک کر لیتے اور کھا لیتے۔ لیکن وہ اس (تجویز) کے خلاف رہا یہاں تک کہ وہ (اونٹ) مر گیا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور گزر بسر کا ذریعہ ہے؟“، یا فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے سوا کوئی اور گزارے کی چیز ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی چربی اور گوشت کو خشک کر لو اور کھاؤ۔“ اس کے بعد اونٹ کا مالک آیا تو اس نے کہا: تم نے اسے ذبح کیوں نہ کیا؟ اس نے کہا: میں نے تم سے شرم کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1958
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 233، حدیث 1971