❮
❯
حدیث نمبر: 1959
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَتَتَبَّعُ أَصَابِعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَصَابِعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِصَفْحَةٍ فَوَجَدَ فِيهَا رِيحَ ثُومٍ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَلَمْ يَرَ أَبُو أَيُّوبَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ، فَقَالَ: «إِنِّي وَجَدْتُ فِيهَا أَثَرَ ثُومٍ» ، فَقَالَ: بَعَثْتَ إِلَيَّ بِمَا لَا تَأْكُلُهُ، فَقَالَ: «إِنَّهُ يَأْتِينِي الْمَلَكُ»
ترجمہ

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کھانا لایا جاتا اور آپ ﷺ اس میں سے تناول فرماتے تو اس کا بچا ہوا حصہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیتے، اور ابو ایوب رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی انگلیوں کے نشان تلاش کرتے اور اپنی انگلیاں وہیں رکھتے جہاں نبی کریم ﷺ کی انگلیوں کے نشان دیکھتے۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک رکابی لائی گئی تو آپ ﷺ نے اس میں لہسن کی بو پائی، چنانچہ آپ ﷺ نے اس میں سے تناول نہ فرمایا، اور اسے ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا۔ ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اس میں نبی کریم ﷺ کی انگلیوں کا نشان نہ پایا، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس میں آپ کی انگلیوں کا نشان نہیں دیکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس میں لہسن کی بو محسوس ہوئی۔“ انہوں نے عرض کیا: آپ نے مجھے وہ چیز بھیج دی جو خود تناول نہیں کرتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس فرشتہ آتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1959
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 233، حدیث 1972