حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اطْلُبُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: «عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي يَوْمِ عِيدٍ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عید کے دن بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَسْبَاطُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَمَّا مَاتَ ابْنُ الدَّحْدَاحِ تَبِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَتَهُ، فَلَمَّا دُفِنَ وَفَرَغَ مِنْهُ، أُتِيَ بِفَرَسٍ فَرَكِبَهُ فَرَجَعَ عَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ابن دحداح رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو نبی کریم ﷺ ان کے جنازے کے ساتھ گئے، جب انہیں دفن کر دیا گیا اور اس سے فارغ ہو گئے، تو ایک گھوڑا لایا گیا، آپ ﷺ اس پر سوار ہوئے اور اسی پر واپس تشریف لائے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأُولَى ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَهْلِهِ، وَخَرَجْتُ مَعَهُ فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانُ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا قَالَ: وَأَمَّا فَمَسَحَ خَدِّي فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا ورِيحًا كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُونَةِ عَطَّارٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلی نماز (ظہر) پڑھی، پھر آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف نکلے، اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلا۔ راستے میں مدینے کے بچے آپ ﷺ کے استقبال کے لیے آئے تو آپ ﷺ ایک ایک کرکے ان کے گالوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ کہتے ہیں: پھر جب آپ ﷺ نے میرے گال پر ہاتھ پھیرا تو میں نے آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایسی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی جیسے وہ ابھی عطر فروش کے صندوق سے نکالا گیا ہو۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبُولُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ، فَقَالَ: «وَعَلَيْكُمِ السَّلَامُ وَعَلَيْكُمِ السَّلَامُ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے، میں نے سلام کیا تو آپ ﷺ نے جواب نہ دیا۔ پھر آپ ﷺ اٹھے، گھر میں تشریف لے گئے، وضو کیا، پھر میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”وعلیکم السلام، وعلیکم السلام۔“