کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبیداللہ بن قبطیہ کی سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ أَحَدَهُمْ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ»
ترجمہ
عبیداللہ بن قبطیہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: جب ہم نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم - اور مسعر نے اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا - تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں کیا ہوا کہ یہ اپنے ہاتھ اس طرح اٹھاتے ہیں جیسے سرکش گھوڑوں کی دمیں؟ کیا تم میں سے کسی کو، یا ان میں سے کسی کو، یہ کافی نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھ دے، پھر اپنے بھائی کو اس کے دائیں اور بائیں سلام کہے؟“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَقُولُ بِأَيْدِينَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُلْقُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ، أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَوْ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ»
ترجمہ
عبیداللہ بن قبطیہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ لوگوں کو کیا ہوا کہ وہ اپنے ہاتھ اس طرح پھینکتے ہیں جیسے سرکش گھوڑوں کی دمیں؟ کیا تم میں سے کسی کو بس اتنا ہی کافی نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھ دے، پھر اپنے بھائی کو اپنے دائیں اور بائیں سلام کہے؟“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
عبیداللہ بن قبطیہ، سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے، نبی کریم ﷺ سے، اسی طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي هَوْذَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي، عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا فَلَمَّا سَلَّمَ أَوْمَأَ النَّاسُ بِأَيْدِيهِمْ يَمِينًا وَشِمَالًا فَأَبْصَرَهُمْ، فَقَالَ: «مَا شَأْنُكُمْ تُقَلِّبُونَ أَيْدِيَكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ وَعَلَى مَنْ عَنْ يَسَارِهِ» ، فَلَمَّا صَلَّوْا مَعَهُ أَيْضًا لَمْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ
ترجمہ
عبیداللہ بن قبطیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اور میرے والد رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، تو آپ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے دائیں بائیں اشارہ کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں دیکھا اور فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم اپنے ہاتھ اس طرح پلٹتے ہو جیسے سرکش گھوڑوں کی دمیں؟ جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو اپنے دائیں والے اور بائیں والے کو سلام کہے“، تو جب انہوں نے دوبارہ آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو انہوں نے ایسا نہ کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا أَشَرْنَا بِأَيْدِينَا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ، إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى أَصْحَابِهِ وَلَا يُومِئْ بِيَدِهِ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، تو جب ہم سلام پھیرتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے: السلام علیکم، تو رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے سرکش گھوڑوں کی دمیں؟ جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو، اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي هَوْذَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسْنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: «لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ ظَاهِرًا حَتَّى يَكُونَ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا أَوْ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ»
ترجمہ
عبیداللہ، سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا، تو ہم آپ ﷺ کے پاس بیٹھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام ہمیشہ غالب رہے گا یہاں تک کہ بارہ امیر یا خلیفہ ہوں، وہ سب قریش میں سے ہوں گے۔“