حدیث نمبر: 1823
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَيْكُمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَأَشَارَ مِسْعَرٌ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ أَحَدَهُمْ، أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ»
ترجمہ

عبیداللہ بن قبطیہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: جب ہم نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم - اور مسعر نے اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا - تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں کیا ہوا کہ یہ اپنے ہاتھ اس طرح اٹھاتے ہیں جیسے سرکش گھوڑوں کی دمیں؟ کیا تم میں سے کسی کو، یا ان میں سے کسی کو، یہ کافی نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اپنی ران پر رکھ دے، پھر اپنے بھائی کو اس کے دائیں اور بائیں سلام کہے؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1823
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 205، حدیث 1836