حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، ثنا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنْدُبُ بْنُ سُفْيَانَ، رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّتِهِ فَأَخْبَرَهُ بِالنَّصْرِ الَّذِي نَصَرَ اللهُ سَرِيَّتَهُ وَبِفَتْحِ اللهِ الَّذِي فَتَحَ لَهُمْ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَيْنَمَا نَحْنُ نَطْلُبُ الْقَوْمَ وَقَدْ هَزَمَهُمُ اللهُ تَعَالَى إِذْ لَحِقْتُ رَجُلًا بِالسَّيْفِ فَلَمَّا حَسَّ أَنَّ السَّيْفَ مُوَاقِعُهُ وَهُوَ يَسْعَى وَيَقُولُ: إِنِّي مُسْلِمٌ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالَ: «فَقَتَلْتَهُ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا تَعَوَّذَ قَالَ: «فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ فَنَظَرْتَ أَصَادِقٌ هُوَ أَمْ كَاذِبٌ؟» قَالَ: لَوْ شَقَقْتُ عَنْ قَلْبِهِ مَا كَانَ عِلْمِي هَلْ قَلْبُهُ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ؟ قَالَ: «لَا مَا فِي قَلْبِهِ تَعْلَمُ وَلَا لِسَانِهِ صَدَّقْتَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ: «لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ» قَالَ: فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَدَفَنُوهُ، فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثُمَّ دَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ اسْتَحْيَوْا وَخَزَوْا مِمَّا لَقِيَ فَاحْتَمَلُوهُ فَأَلْقَوْهُ فِي شِعْبٍ مِنْ تِلْكَ الشِّعَابِ
ترجمہ
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں: ...اور کہا: یا رسول اللہ، ہم دشمن کا تعاقب کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست دی تھی کہ میں نے ایک آدمی کو تلوار سے جا لیا، تو جب اسے احساس ہوا کہ تلوار اسے لگنے والی ہے اور وہ بھاگتے ہوئے کہہ رہا تھا: میں مسلمان ہوں، میں مسلمان ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اسے قتل کر دیا؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ، اس نے تو صرف پناہ مانگی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا؟“ اس نے کہا: اگر میں اس کا دل چیر بھی دیتا تو مجھے کیا پتا چلتا، اس کا دل تو صرف گوشت کا ایک ٹکڑا ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہ تجھے اس کے دل کا علم تھا اور نہ اس کی زبان کا کہ اس نے سچ کہا تھا۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ، میرے لیے بخشش مانگیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تیرے لیے بخشش نہیں مانگوں گا۔“ پھر وہ آدمی مر گیا اور لوگوں نے اسے دفن کیا، تو صبح وہ زمین کے اوپر پڑا ملا، پھر انہوں نے اسے دوبارہ دفن کیا تو پھر صبح وہ زمین کے اوپر پڑا ملا، ایسا تین بار ہوا، تو جب انہوں نے یہ دیکھا تو شرمندہ اور رسوا ہوگئے، تو انہوں نے اسے اٹھا کر پہاڑی گھاٹیوں میں سے کسی ایک گھاٹی میں ڈال دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي جُنْدُبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينِ: فَكَيْفَ نَصْنَعُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «ادْخُلُوا بُيُوتَكُمْ وَاحْمِلُوا ذِكْرِكُمْ» ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتَ إِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدِنَا بَيْتَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيُمْسِكْ بِيَدِهِ وَلْيَكُنْ عَبْدَ اللهِ الْمَقْتُولَ، وَلَا يَكُنْ عَبْدَ اللهِ الْقَاتِلَ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَكُونُ فِي فِئَةِ الْإِسْلَامِ، فَيَأْكُلُ مَالَ أَخِيهِ، وَيَسْفِكُ دَمَهُ، ويَعْصِي رَبَّهُ، وَيَكْفُرُ بِخَالِقِهِ وتَجِبُ لَهُ النَّارُ»
ترجمہ
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں: مجھ سے سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد اندھیری رات کے حصوں کی طرح فتنے ہوں گے، آدمی ان میں صبح مومن ہوگا اور شام کو کافر، اور شام کو کافر ہوگا اور صبح مومن“، تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ، ہم اس وقت کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں میں بیٹھ جاؤ اور اپنی زبان کو ذکر سے لگائے رکھو“، ایک آدمی نے کہا: اگر ہم میں سے کسی کے گھر میں گھس آیا جائے تو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا ہاتھ روک لے اور اللہ کا مقتول بندہ بنے، اللہ کا قاتل بندہ نہ بنے، کیونکہ آدمی مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوکر اپنے بھائی کا مال کھا لیتا ہے، اس کا خون بہا دیتا ہے، اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے خالق کا انکار کرتا ہے، تو اس کے لیے جہنم واجب ہو جاتی ہے۔“