المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جندب بن كعب الأزدي وقد اختلف في صحبته باب: سیدنا جندب بن کعب ازدی رضی اللہ عنہ، ان کی صحابیت میں اختلاف ہے
حدیث نمبر: 1712
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ سَاحِرًا، كَانَ يَلْعَبُ عِنْدَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَكَانَ يَأْخُذُ السَّيْفَ وَيَذْبَحُ نَفْسَهُ وَيَعْمَلُ كَذَا وَلَا يَضُرُّهُ «فَقَامَ جُنْدُبٌ إِلَى السَّيْفِ فَأَخَذَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ» ثُمَّ قَرَأَ: {أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ} [الأنبياء: ٣]ترجمہ
ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں: ...ایک جادوگر ولید بن عقبہ کے یہاں کرتب دکھاتا تھا، وہ تلوار لے کر اپنے آپ کو ذبح کر لیتا اور اس طرح کے کام کرتا اور اسے کوئی نقصان نہ پہنچتا، تو جندب تلوار کی طرف اٹھے، اسے لے لیا اور اس کی گردن پر مار دی، پھر یہ آیت پڑھی: ”کیا تم دیکھتے بوجھتے جادو کے پاس آتے ہو؟“ [سورۃ الانبیاء: 3]۔