کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوعمران جونی کی سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَا: ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ»
ترجمہ
ابوعمران جونی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہا، اگرچہ وہ درست بات کہہ دے، پھر بھی وہ غلطی پر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1659
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 163، حدیث 1672
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمُ أَبُو النُّعْمَانِ، وَعَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا مُحَمَّدُ بنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، ثنا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَمِعُوا عَلَى الْقُرْآنِ مَا ائْتَلَفْتُمْ عَلَيْهِ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا»
ترجمہ
ابوعمران بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قرآن پر اکٹھے جمع ہو جتنی دیر تم اس پر متفق رہو، پھر جب تم اس میں اختلاف کرنے لگو تو وہاں سے اٹھ جاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1660
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 163، حدیث 1673
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ فَقُومُوا»
ترجمہ
ابوعمران بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دل اس پر متفق رہیں، پھر جب اختلاف پیدا ہو جائے تو اٹھ جاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1661
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 164، حدیث 1674
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْفُرَافِصَةِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدُبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَمِعُوا عَلَى الْقُرْآنِ مَا ائْتَلَفْتُمْ عَلَيْهِ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا»
ترجمہ
ابوعمران جونی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قرآن پر جمع ہو جتنی دیر تم اس پر متفق رہو، پھر جب تم اس میں اختلاف کرنے لگو تو اٹھ جاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1662
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 164، حدیث 1675
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللهِ هَلْ كُنْتُمْ تُسَخِّرُونَ الْعَجَمَ؟ قَالَ: «كُنَّا نُسَخِّرُهمْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَى قَرْيَةٍ يَدُلُّونا عَلَى الطَّرِيقِ ثُمَّ نُخَلِّيهِمْ»
ترجمہ
ابوعمران بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ لوگ عجمیوں سے بیگار لیتے تھے؟ فرمایا: ”ہم انہیں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک بیگار پر لگاتے، وہ ہمیں راستہ دکھاتے، پھر ہم انہیں چھوڑ دیتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1663
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 164، حدیث 1676
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ إِنِّي بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ أَهْلَ الشَّامِ، قَالَ: لَعَلَّكَ تَقُولُ أَفْتَانِي جُنْدُبٌ وأَقْتَدِي، قَالَ: قُلْتُ: مَا أُرِيدُ ذَلِكَ وَلَكِنِّي أَسْتَفْتِيكَ لِتُفْتِيَنِي، قَالَ: فَقَالَ: افْتَدِ بِمَالِكَ، قُلْتُ: لَا يُقْبَلُ مِنِّي، قَالَ جُنْدُبٌ: كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا حَزَوَّرًا وَأَنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاتِلِهِ مُتَعَلِّقٌ بِهِ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَ قَتَلْتُمْ هَذَا؟ فَيَقُولُ: فِي مُلْكِ فُلَانٍ " فَاتَّقِ لَا تَكُونُ ذَلِكَ الرَّجُلَ
ترجمہ
ابوعمران جونی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے اس بات پر بیعت کی ہے کہ میں اہل شام سے لڑوں گا، فرمایا: شاید تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ جندب نے مجھے فتویٰ دیا اور میں اس کی پیروی کرتا ہوں؟ میں نے کہا: میرا یہ ارادہ نہیں، بلکہ میں آپ سے فتویٰ اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ آپ مجھے فتویٰ دیں، تو انہوں نے فرمایا: اپنے مال سے فدیہ دے دو۔ میں نے کہا: مجھ سے وہ قبول نہیں کریں گے۔ جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک نوعمر لڑکا تھا اور مجھے فلاں شخص نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو اپنے ساتھ لائے گا اس حال میں کہ وہ اس سے چمٹا ہوگا، تو اللہ عزوجل فرمائے گا: تم نے اسے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: فلاں کی بادشاہت کی خاطر“ تو ڈرو کہ کہیں تم ہی وہ آدمی نہ بن جاؤ۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1664
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 164، حدیث 1677
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ نَجِيحٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ صَدَقَةَ، ثنا بِسْطَامُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: «كُنَّا مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْيَانًا حَزَاوِرَةَ فَتَعَلَّمْنَا الْإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ تَعَلَّمْنَا الْقُرْآنَ فَنَزْدَادُ بِهِ إِيمَانًا، فَإِنَّكُمُ الْيَوْمَ تَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ قَبْلَ الْإِيمَانِ»
ترجمہ
ابوعمران بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اپنے نبی ﷺ کے ساتھ نوعمر لڑکے تھے، تو ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارا ایمان بڑھ گیا، جبکہ تم لوگ آج ایمان سے پہلے قرآن سیکھتے ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1665
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 165، حدیث 1678
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ رَجُلٌ وَاللهِ لَا يَغْفِرُ اللهُ لِفُلَانٍ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ "
ترجمہ
ابوعمران بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم، اللہ فلاں شخص کو معاف نہیں کرے گا، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: یہ کون ہے جو مجھ پر قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں فلاں کو معاف نہیں کروں گا؟ میں نے فلاں کو معاف کر دیا اور تیرا عمل ضائع کر دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1666
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 165، حدیث 1679
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ جُنْدُبٍ: " أَنَّ رَجُلًا آلَى أَنْ لَا يَغْفِرَ اللهُ لِفُلَانٍ فَأَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ إِلَى نَبِيٍّ: أَنَّهَا بِمَنْزِلَةِ الْخَطِيئَةِ فَلْيَسْتَقْبِلِ الْعَمَلَ "
ترجمہ
ابوعمران بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک آدمی نے قسم کھائی کہ اللہ فلاں کو معاف نہیں کرے گا، تو اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ کی طرف - یا کسی پچھلے نبی کی طرف - وحی فرمائی کہ یہ قسم گناہ کے برابر ہے، تو اسے چاہیے کہ نئے سرے سے عمل شروع کرے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1667
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 165، حدیث 1680