حدیث نمبر: 1664
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ إِنِّي بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ أَهْلَ الشَّامِ، قَالَ: لَعَلَّكَ تَقُولُ أَفْتَانِي جُنْدُبٌ وأَقْتَدِي، قَالَ: قُلْتُ: مَا أُرِيدُ ذَلِكَ وَلَكِنِّي أَسْتَفْتِيكَ لِتُفْتِيَنِي، قَالَ: فَقَالَ: افْتَدِ بِمَالِكَ، قُلْتُ: لَا يُقْبَلُ مِنِّي، قَالَ جُنْدُبٌ: كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا حَزَوَّرًا وَأَنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاتِلِهِ مُتَعَلِّقٌ بِهِ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَ قَتَلْتُمْ هَذَا؟ فَيَقُولُ: فِي مُلْكِ فُلَانٍ " فَاتَّقِ لَا تَكُونُ ذَلِكَ الرَّجُلَ
ترجمہ

ابوعمران جونی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے اس بات پر بیعت کی ہے کہ میں اہل شام سے لڑوں گا، فرمایا: شاید تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ جندب نے مجھے فتویٰ دیا اور میں اس کی پیروی کرتا ہوں؟ میں نے کہا: میرا یہ ارادہ نہیں، بلکہ میں آپ سے فتویٰ اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ آپ مجھے فتویٰ دیں، تو انہوں نے فرمایا: اپنے مال سے فدیہ دے دو۔ میں نے کہا: مجھ سے وہ قبول نہیں کریں گے۔ جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک نوعمر لڑکا تھا اور مجھے فلاں شخص نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو اپنے ساتھ لائے گا اس حال میں کہ وہ اس سے چمٹا ہوگا، تو اللہ عزوجل فرمائے گا: تم نے اسے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: فلاں کی بادشاہت کی خاطر“ تو ڈرو کہ کہیں تم ہی وہ آدمی نہ بن جاؤ۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1664
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 164، حدیث 1677