المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بسر بن جحاش القرشي ويقال: بشر باب: سیدنا بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ، اور بشر بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1183
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ الرَّحَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْرَجَ يَدَهُ فَبَصَقَ فِيهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ يَقُولُ: كَيْفَ تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ، وَإِنَّما خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ، فَسَوَّيْتُكَ، وَعَدَّلْتُكَ، وَمَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ، وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ، فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ، قُلْتَ: أَتَصَدَّقُ، الْآنَ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ؟ "ترجمہ
سیدنا بُسر بن جحاش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ نکالا، اس میں تھوکا، پھر اسے دیکھا اور فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تو مجھے کیسے عاجز کر سکتا ہے، جبکہ میں نے تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا، پھر تجھے برابر اور معتدل بنایا، تو تُو دو چادروں میں چلنے لگا، اور زمین تیرے قدموں سے دھمک لینے لگی، تو تُو نے مال جمع کیا اور روکا، یہاں تک کہ جب روح ہنسلیوں تک پہنچی، تو تُو کہنے لگا: اب صدقہ کروں گا، اور اب صدقے کا وقت کہاں رہا؟“