کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سعد قرظ رضی اللہ عنہ کی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعُمَرَ، وَعَمَّارٍ، ابْنَيْ حَفْصٍ، عَنْ آبَائِهِمْ، عَنْ أَجْدَادِهِمْ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ، فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ مَكَانَهَا: «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» وَتَرَكَ حَيَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ
ترجمہ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فجر کی اذان میں ”حَیَّ عَلٰی خَیرِ الْعَمَل“ کہا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کی جگہ ”الصلاۃ خیر من النوم (نماز نیند سے بہتر ہے)“ کہا جائے، اور ”حَیَّ عَلٰی خَیرِ الْعَمَل“ کہنا چھوڑ دیا گیا۔
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَذَّنْتَ فَاجْعَلْ إِصْبَعَكَ فِي أُذُنَيْكَ، فَإِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اذان دو تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لو، کیونکہ یہ تمہاری آواز کو زیادہ بلند کر دیتا ہے۔“
وَعَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُؤَذِّنُ: " اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَمِينِ الْقِبْلَةِ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ فَيَسْتَقْبِلُ خَلْفَ الْقِبْلَةِ، فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَنْحَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ، فَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، فَيَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَكَانَ يُقِيمُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُفْرِدُ الْإِقَامَةَ، فَيَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ "
ترجمہ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے لیے اذان دیا کرتے تھے، اور یوں اذان دیتے: ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں“ پھر قبلے کی دائیں جانب رخ پھیر کر کہتے: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں“ پھر رخ پھیر کر قبلے کے پیچھے کی طرف منہ کرتے اور کہتے: ”نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ“ پھر اپنی بائیں جانب رخ پھیرتے اور کہتے: ”کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ“ پھر قبلہ رخ ہو کر کہتے: ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں“ اور نبی کریم ﷺ کے لیے اقامت بھی کہا کرتے، اور اقامت کے الفاظ ایک ایک بار کہتے: ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، نماز کھڑی ہو گئی، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: كَانَ آخِرُ أَذَانِ بِلَالٍ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ»
ترجمہ
سویدبن غفلہ بیان کرتے ہیں: بلال رضی اللہ عنہ کی آخری اذان یہ تھی: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ عُمَرَ، عَنْ بِلَالٍ «أَنَّهُ كَانَ يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذَا كَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ، إِذَا قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ»
ترجمہ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے لیے اس وقت اذان دیتے جب سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہو جاتا، جب نبی کریم ﷺ منبر پر بیٹھ جاتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَمَّارٍ، وَعُمَرَ، ابْنَيْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ آبَائِهِمْ، عَنْ بِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَفْضَلَ عَمَلِ الْمُؤْمِنِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”مومن کا سب سے افضل عمل اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔“