کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بِلَالُ مُتْ فَقِيرًا، وَلَا تَمُتْ غَنِيًّا» قُلْتُ: وَكَيْفَ بِذَاكَ؟ قَالَ: «مَا رُزِقْتَ فَلَا تَخْبَأْ، وَمَا سُئِلَتَ فَلَا تَمْنَعْ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ لِي بِذَاكَ؟ فَقَالَ: «هُوَ ذَاكَ أَوِ النَّارُ»
ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے بلال! فقیر مرنا، غنی مت مرنا“ میں نے عرض کیا: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تمہیں رزق ملے اسے چھپا کر مت رکھو، اور جو تم سے مانگا جائے اسے روکو مت“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں یہ کیسے کر پاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی طریقہ ہے، ورنہ آگ (کا سامنا ہوگا)۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1017
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 341، حدیث 1021
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ بِلَالٍ، قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقُلْتُ: ادَّخَرْنَاهُ لِشِتَائِنَا، فَقَالَ: «أَمَا تَخَافُ أَنْ تَرَى لَهُ بُخَارًا فِي جَهَنَّمَ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس کچھ کھجوریں تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ہم نے یہ اپنی سردیوں کے لیے جمع کر رکھی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں ڈر نہیں کہ تم اس کی وجہ سے جہنم کا دھواں دیکھو گے؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1018
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 341، حدیث 1022