حدیث نمبر: 1016
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: أَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صُبْرٌ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَخَرْتُهُ لَكَ وَلِضِيفَانِكَ، قَالَ: «أَمَا تَخْشَى أَنْ يفوزَ لَهَا بُخَارٌ مِنْ جَهَنَّمَ؟ أَنْفِقْ يَا بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے اے بلال؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے یہ آپ کے اور آپ کے مہمانوں کے لیے جمع کر رکھی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں ڈر نہیں کہ اس کی وجہ سے جہنم کا دھواں اس پر غالب آ جائے؟ خرچ کرو اے بلال، اور عرش والے (اللہ) سے کمی کا خوف نہ کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1016
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 340، حدیث 1020