حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: ثنا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَّا، يُقَالُ لَهُ: الْأَسْلَعُ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْحَلُ لَهُ، فَقَالَ لِي ذَاتَ لَيْلَةٍ: «يَا أَسْلَعُ، قُمْ فَارْحَلْ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِآيَةِ الصَّعِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ يَا أَسْلَعُ فَتَيَمَّمْ» قَالَ: فَقُمْتُ، فَتَيَمَّمْتُ، ثُمَّ رَحَلْتُ لَهُ، فَسَارَ حَتَّى مَرَّ بِمَاءٍ، فَقَالَ لِي: «يَا أَسْلَعُ مِسَّ - أَوْ أَمِسَّ - هَذَا جِلْدَكَ» ، قَالَ: وَأَرَانِي أَبِي التَّيَمُّمَ كَمَا أَرَاهُ أَبُوهُ: «ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ، وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا اسلع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کرتا اور ان کے لیے سواری تیار کرتا تھا۔ ایک رات آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے اسلع! اٹھو اور سواری تیار کرو۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے، پھر جبریل علیہ السلام آیتِ تیمم لے کر آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسلع! اٹھو اور تیمم کر لو۔“ میں نے اٹھ کر تیمم کیا، پھر آپ ﷺ کے لیے سواری تیار کی، آپ ﷺ چلے یہاں تک کہ ایک پانی کے پاس سے گزرے، تو مجھ سے فرمایا: ”اے اسلع! اس پانی کو اپنے جسم سے لگا لو۔“ راوی کہتے ہیں: اور مجھے میرے والد نے تیمم اسی طرح دکھایا جیسے انہیں ان کے والد (اسلع) نے دکھایا تھا: چہرے کے لیے ایک بار، اور دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ایک بار۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الْأَسْلَعِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْأَعْرَجِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: «يَا أَسْلَعُ، قُمْ أَرِنِي كَيْفَ كَذَا وَكَذَا؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَسَكَتَ عَنِّي سَاعَةً، حَتَّى جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالصَّعِيدِ التَّيَمُّمِ، قَالَ: «قُمْ يَا أَسْلَعُ فَتَيَمَّمْ» قَالَ: ثُمَّ أَرَانِي الْأَسْلَعَ كَيْفَ عَلَّمَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّيَمُّمَ، قَالَ: ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ حَتَّى أَمَرَّ عَلَى لِحْيَتِهِ، ثُمَّ أَعَادَهُمَا إِلَى الْأَرْضِ، فَمَسَحَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ، فَدَلَكَ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى، ثُمَّ نَفَضَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا
ترجمہ
سیدنا اسلع رضی اللہ عنہ، جو بنو اعرج بن کعب کے ایک فرد تھے، بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کرتا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے اسلع! اٹھو، مجھے دکھاؤ فلاں فلاں کام کیسے ہوتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہے۔ آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے یہاں تک کہ جبریل علیہ السلام تیمم کی آیت لے کر آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسلع! اٹھو اور تیمم کر لو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں تیمم کس طرح سکھایا: رسول اللہ ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں، پھر انہیں جھاڑا، پھر ان سے اپنا چہرہ مسح کیا یہاں تک کہ داڑھی پر بھی پھیرا، پھر دوبارہ انہیں زمین پر رکھا، دونوں ہتھیلیوں سے زمین کو مسح کیا، ایک کو دوسری پر رگڑا، پھر انہیں جھاڑا، پھر اپنے بازوؤں کا اوپری اور نیچلا حصہ مسح کیا۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى شِيرَانُ الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ الْمِنْقَرِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ رُزَيْقٍ الْمَالِكِيُّ، مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدٍ، عَاشَ مِائَةً وَسَبْعَ عَشْرَةَ سَنَةً، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَسْلَعِ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: كُنْتُ أُرَحِّلُ نَاقَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ، وَأَرَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّحْلَةَ، وَكَرِهْتُ أَنْ أَرْحَلَ نَاقَتَهُ، وَأَنَا جُنُبٌ، وَخَشِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ فَأَمُوتَ أَوْ أُمَرِّضَ، فَأَمَرْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَرَحَلَّهَا، وَوَضَعْتُ أَحْجَارًا، فَأَسْخَنْتُ بِهَا مَاءً فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ لَحِقْتُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «يَا أَسْلَعُ، مَا لِي أَرَى رِحْلَتَكَ تَغَيَّرَتْ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ أَرْحَلْهَا، رَحَلَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: «وَلِمَ؟» فَقُلْتُ: إِنِّي أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ فَخَشِيتُ الْقُرَّ عَلَى نَفْسِي، فَأَمَرْتُهُ أَنْ يَرْحَلَهَا، وَوَضَعْتُ أَحْجَارًا فَأَسْخَنْتُ مَاءً وَاغْتَسَلْتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى} [النساء: ٤٣] إِلَى: {إِنَّ اللهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا} [النساء: ٤٣]
ترجمہ
راوی (اسلع رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں: … تو میں نے انصار کے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ سواری تیار کرے، اور میں نے پتھر رکھ کر ان سے پانی گرم کیا اور غسل کیا، پھر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ سے جا ملا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسلع! کیا بات ہے، میں دیکھتا ہوں تمہاری سواری بدل گئی ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اسے تیار نہیں کیا، انصار کے ایک شخص نے تیار کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیوں؟“ میں نے عرض کیا: مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی اور مجھے اپنے اوپر سردی کا ڈر تھا، تو میں نے اسے سواری تیار کرنے کا حکم دیا، اور میں نے پتھر رکھ کر پانی گرم کیا اور اس سے غسل کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ“ سے لے کر ”بےشک اللہ معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے“ تک [سورۃ النساء: 43]۔