حدیث نمبر: 848
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبَانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يُقَاتِلُ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهُ أَيْمَنُ بْنُ خُرَيْمٍ: أَلَا تُقَاتِلُ مَعَنَا؟ فَقَالَ: «لَا، إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَهِدَا إِلَيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَإِنْ أَتَيْتَنِي بِبَرَاءَةٍ مِنَ النَّارِ قَاتَلْتُ مَعَكَ» فَقَالَ: اذْهَبْ، فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيكَ، فَقَالَ أَيْمَنُ: «
[البحر الوافر]
وَلَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلًا يُصَلِّي ... عَلَى سُلْطَانِ آخَرَ مِنْ قُرَيْشِ
لَهُ سُلْطَانُهُ وَعَلَيَّ إِثْمِي ... مَعَاذَ اللهِ مِنْ جَهْلٍ وَطَيْشِ»
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں کہ مروان بن حکم ضحاک بن قیس سے جنگ کر رہا تھا، تو اس نے بنو اسد کے ایک شخص سے، جسے ایمن بن خریم کہا جاتا تھا، کہا: کیا تم ہمارے ساتھ جنگ نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: ”نہیں، میرے والد اور میرے چچا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں شریک رہے، اور انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں کسی ایسے شخص سے جنگ نہ کروں جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اگر تم مجھے آگ سے نجات کی ضمانت لا دو تو میں تمہارے ساتھ لڑوں گا۔“ اس نے کہا: جاؤ، ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔ تو ایمن نے یہ شعر پڑھے: میں ایسے شخص کو قتل کرنے والا نہیں جو نماز پڑھتا ہو، چاہے وہ قریش کی کسی اور حکومت کی بیعت میں ہو۔
اس کی حکومت اسی کی ذمہ داری ہے اور میرا گناہ مجھ پر، میں جہالت اور بےسمجھی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 848
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 290، حدیث 852