حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللهِ» قَالَ: فَذَئِرَ النِّسَاءُ، وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنِّ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَئِرَ النِّسَاءُ، وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنِّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَاضْرِبُوهُنَّ» فَضَرَبَ النَّاسُ النِّسَاءَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَأَتَى نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ: «لَقَدْ أَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنُّ يَشْتَكِينَ مِنَ الضَّرْبِ، وَايْمُ اللهِ، لَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی باندیوں کو مت مارو۔“ اس پر عورتیں شوخ ہو گئیں اور اپنے شوہروں کے ساتھ ان کا رویہ خراب ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب سے آپ نے عورتوں کو مارنے سے منع کیا ہے، وہ شوخ ہو گئی ہیں اور اپنے شوہروں کے ساتھ بدتمیزی کرنے لگی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو انہیں مارو۔“ چنانچہ لوگوں نے اس رات اپنی عورتوں کو مارا، پھر بہت سی عورتیں مار پیٹ کی شکایت لے کر آئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے صبح ہوتے ہی فرمایا: ”آج رات آلِ محمد ﷺ کے پاس ستر عورتیں مار پیٹ کی شکایت لے کر آئی ہیں، اور اللہ کی قسم! تم ان کو اپنے میں سے بہتر نہیں پاؤ گے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَثنا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالُوا: أَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللهِ» فَجَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ ذَئِرَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنِّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنِّ، فَأَذِنَ لَهُمْ، فَضَرَبُوا، فَأَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ سَبْعُونَ امْرَأَةً، كُلُّهُنَّ يَشْتَكِي زَوْجُهَا، وَلَا تَجِدُ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی باندیوں کو مت مارو۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! جب سے آپ نے عورتوں کو مارنے سے منع کیا ہے وہ اپنے شوہروں کے سامنے شوخ ہو گئی ہیں۔ تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ لوگوں نے مارا، تو آلِ محمد ﷺ کے پاس بہت سی عورتیں، ستر کے قریب، آئیں، ہر ایک اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی، ”اور تم ان کو اپنے میں سے بہتر نہیں پاؤ گے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عِيسَى بْنُ سَالِمٍ الشَّاشِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللهِ» فَتَرَكُوا ضَرْبَهُنَّ، فَجَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدْ ذَئِرَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْبِهِنَّ، فَأَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: «لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَشْتَكِي الضَّرْبَ، وَايْمُ اللهِ مَا أَحْسَبُ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی باندیوں کو مت مارو۔“ چنانچہ لوگوں نے انہیں مارنا چھوڑ دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: اللہ کی قسم! عورتیں اپنے شوہروں کے سامنے شوخ ہو گئی ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں مارنے کا حکم دیا، تو آلِ محمد ﷺ کے پاس بہت سی عورتیں آئیں، جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج رات آلِ محمد کے پاس ستر عورتیں آئی ہیں، سب مار پیٹ کی شکایت کر رہی ہیں، اور اللہ کی قسم! میں انہیں تم میں سے بہتر نہیں سمجھتا۔“