کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: اللہ عزوجل نے عید الفطر کے دن مومنوں کے لیے جو تکریم تیار کر رکھی ہے، اس کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الطُّرُقِ، فَنَادَوْا: اغْدُوا يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَبٍّ كَرِيمٍ يَمُنُّ بِالْخَيْرِ، ثُمَّ يُثِيبُ عَلَيْهِ الْجَزِيلَ، لَقَدْ أُمِرْتُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَقُمْتُمْ، وَأُمِرْتُمْ بِصِيَامِ النَّهَارِ فَصُمْتُمْ، وَأَطَعْتُمْ رَبَّكُمْ، فَاقْبِضُوا جَوَائِزَكُمْ، فَإِذَا صَلَّوْا، نَادَى مُنَادٍ: أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ قَدْ غَفَرَ لَكُمْ، فَارْجِعُوا رَاشِدِينَ إِلَى رِحَالِكُمْ، فَهُوَ يَوْمُ الْجَائِزَةِ، وَيُسَمَّى ذَلِكَ الْيَوْمُ فِي السَّمَاءِ يَوْمَ الْجَائِزَةِ "
ترجمہ
سیدنا اوس انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو فرشتے راستوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پکارتے ہیں: اے مسلمانو! صبح سویرے (نکل کر) ایک کریم رب کی طرف چلو جو خیر سے نوازتا ہے اور پھر اس پر بہت بڑا اجر دیتا ہے، تمہیں رات کے قیام کا حکم دیا گیا تو تم نے قیام کیا، اور تمہیں دن کے روزے کا حکم دیا گیا تو تم نے روزہ رکھا، اور تم نے اپنے رب کی اطاعت کی، تو اب اپنے انعامات وصول کر لو۔ پھر جب لوگ نماز پڑھ لیتے ہیں تو ایک منادی پکارتا ہے: سن لو! تمہارے رب نے تمہیں بخش دیا، تو ہدایت یافتہ ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، یہ انعام کا دن ہے، اور آسمان میں اس دن کو انعام کا دن کہا جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ سَالِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ تَوْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ غَدَاةُ الْفِطْرِ، وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ فِي أَفْوَاهِ الطُّرُقِ، فَنَادَوْا: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ اغْدُوا إِلَى رَبٍّ رَحِيمٍ يَمُنُّ بِالْخَيْرِ، وَيُثِيبُ عَلَيْهِ الْجَزِيلَ، أُمِرْتُمْ بِصِيَامِ النَّهَارِ فَصُمْتُمْ، وَأَطَعْتُمْ رَبَّكُمْ، فَاقْبِضُوا جَوَائِزَكُمْ، فَإِذَا صَلَّوُا الْعِيدَ نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: ارْجِعُوا إِلَى مَنَازِلِكُمْ رَاشِدِينَ، قَدْ غَفَرْتُ ذُنُوبَكُمْ كُلَّهَا، وَيُسَمَّى ذَلِكَ الْيَوْمُ فِي السَّمَاءِ يَوْمَ الْجَائِزَةِ "
ترجمہ
سیدنا اوس انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے تو فرشتے راستوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پکارتے ہیں: اے مسلمانو! صبح سویرے (نکل کر) ایک رحیم رب کی طرف چلو جو خیر سے نوازتا ہے اور اس پر بہت بڑا اجر دیتا ہے، تمہیں دن کے روزے کا حکم دیا گیا تو تم نے روزہ رکھا اور اپنے رب کی اطاعت کی، تو اب اپنے انعامات وصول کر لو۔ پھر جب لوگ عید کی نماز پڑھ لیتے ہیں تو آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے: ہدایت یافتہ ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، میں نے تمہارے سارے گناہ بخش دیے، اور آسمان میں اس دن کو انعام کا دن کہا جاتا ہے۔“