المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب في كفارة الظهار باب: ظہار کے کفارے کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَّامٍ، حَدَّثَتْنِي خُوَيْلَةُ بِنْتُ ثَعْلَبَةَ، وَكَانَتْ عِنْدَ أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ، وَكَلَّمَنِي بِشَيْءٍ، وَهُوَ فِيهِ كَالضِّجِرِ، فَرَادَدْتُهُ، فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، ثُمَّ خَرَجَ فَجَلَسَ فِي نَادِي قَوْمِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ، فَأَرَادَنِي عَلَى نَفْسِي، فَامْتَنَعْتُ مِنْهُ فَشَادَدَنِي فَشَادَدْتُهُ، فَغَلَبْتُهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ الضَّعِيفَ، فَقُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ، لَا تَصِلُ إِلَيْهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ فِيَّ وَفِيكَ حُكْمَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ مِنْهُ، فَقَالَ: «زَوْجُكِ، وَابْنُ عَمِّكِ فَاتَّقِي اللهَ» وَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [المجادلة: ١] ، حَتَّى بَلَغَ الْكَفَّارَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرِيهِ فَلْيَعْتِقْ رَقَبَةً» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا عِنْدَهُ رَقَبَةٌ يَعْتِقُهَا، قَالَ: «فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، شَيْخٌ كَبِيرٌ، وَاللهِ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ، قَالَ: «فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قَالَتْ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا عِنْدَهُ مَا يُطْعِمُ، قَالَ: «سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ» - وَالْعَرَقُ يَسَعُ ثَلَاثِينَ صَاعًا - قُلْتُ: وَأَنَا أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ: «أَحْسَنْتِ، مُرِيهِ فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ»…میں نے کہا: ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں خویلہ کی جان ہے، تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ اللہ میرے اور تمہارے بارے میں اپنا فیصلہ صادر فرمائے۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور آپ سے اس کی شکایت کی جو میں نے اس سے جھیلا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہارا شوہر اور تمہارے چچا کا بیٹا ہے، اللہ سے ڈرو۔“ اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بےشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑا کر رہی تھی“ [سورۃ المجادلہ: 1]، یہاں تک کہ کفارے تک پہنچی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے کہو کہ وہ ایک غلام آزاد کرے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس کے پاس آزاد کرنے کے لیے کوئی غلام نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ مسلسل دو مہینے روزے رکھے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ بوڑھا آدمی ہے، اللہ کی قسم! اس میں روزے رکھنے کی طاقت نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس کے پاس کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم اسے کھجور کے ایک عَرَق (ٹوکرے) سے مدد دیں گے“ - اور عَرَق تیس صاع کا ہوتا تھا - میں نے عرض کیا: اور میں بھی اسے ایک اور عَرَق سے مدد دوں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا، اسے کہو کہ وہ اسے صدقہ کر دے۔“