المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
نسبة الزبير بن العوام رضي الله عنه " الزبير بن العوام بن خويلد بن أسد بن عبد العزى بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك يكنى أبا عبد الله، وأمه: صفية بنت عبد المطلب عمة رسول صلى الله عليه وسلم " — ومما أسند الزبير بن العوام رضي الله عنه باب: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا نسب: زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک، کنیت ابوعبداللہ، اور آپ کی والدہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں — سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا نُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ الْقَيْنِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا قُحَافَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: «أَيُّكُمْ يَتْبَعُنِي إِلَى وَفْدِ الْجِنِّ اللَّيْلَةَ؟» فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، فَمَرَّ بِي يَمْشِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ حَتَّى خَنَسَتْ عَنَّا جِبَالُ الْمَدِينَةِ كُلُّهَا، وَأُقْصِينَا إِلَى أَرْضٍ قَرَارٍ، فَإِذَا رِجَالٌ طُوَالٌ كَأَنَّهُمُ الرَّمَاحُ، مُسْتَدْفِرِي ثِيَابِهِمْ مِنْ بَيْنِ أَرْجُلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ غَشِيَتْنِي رِعْدَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى مَا يُمْسِكُنِي رِجْلَايَ مِنَ الْفَرَقِ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ خَطَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِبْهَامِ رِجْلِهِ فِي الْأَرْضِ خَطًّا، فَقَالَ لِي: «أُقْعُدْ فِي وَسَطِهِ» فَلَمَّا جَلَسْتُ ذَهَبَ عَنِّي كُلُّ شَيْءٍ أَجِدُهُ مِنْ رِيبَةٍ، وَمَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتَلَا قُرْآنًا رفيعًا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى مَرَّ بِي، فَقَالَ لِي: «إِلْحَقْ» فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ، فَمَضَيْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ، فَقَالَ لِي: «الْتَفِتْ فَانْظُرْ، هَلْ تَرَى حَيْثُ كَانَ أُولَئِكَ مِنْ أَحَدٍ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَى سَوَادًا كَثِيرًا، فَخَفَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَنَظَمَ عَظْمًا بِرَوْثَةٍ، ثُمَّ رَمَى بِهِ إِلَيْهِمْ، وَقَالَ: «رَشَدَ أُولَئِكَ مِنْ وَفْدِ قَوْمٍ هُمْ وَفْدُ نَصِيبِينَ، سَأَلُونِي الزَّادَ فَجَعَلْتُ لَهُمْ كُلَّ عَظْمٍ وَرَوْثَةٍ» قَالَ الزُّبَيْرُ: «فَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِعَظْمٍ وَلَا رَوْثَةٍ أَبَدًا»…سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مدینہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تم میں سے کون آج رات جنوں کے وفد کی طرف میرے ساتھ چلے گا؟“ تو لوگ خاموش ہو گئے اور ان میں سے کسی نے کچھ نہ کہا۔ آپ ﷺ نے یہ تین بار فرمایا۔ پھر آپ ﷺ چلتے ہوئے میرے پاس سے گزرے تو میرا ہاتھ پکڑ لیا، چنانچہ میں آپ ﷺ کے ساتھ چلنے لگا، یہاں تک کہ مدینہ کے تمام پہاڑ ہم سے اوجھل ہو گئے، اور ہم ایک کھلے میدان میں دور نکل آئے۔ اچانک کچھ لمبے قد کے آدمی نظر آئے، گویا وہ نیزے ہوں، اپنے کپڑے اپنی ٹانگوں کے درمیان سے لپیٹے ہوئے۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، یہاں تک کہ خوف سے میرے پاؤں مجھے سہارا نہیں دے رہے تھے۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاؤں کے انگوٹھے سے زمین پر ایک لکیر کھینچی اور مجھ سے فرمایا: ”اس کے درمیان بیٹھ جاؤ۔“ جب میں بیٹھ گیا تو مجھے جو بھی خوف محسوس ہو رہا تھا وہ سب دور ہو گیا۔ پھر نبی کریم ﷺ میرے اور ان کے درمیان چلے گئے اور بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی۔ پھر آپ ﷺ واپس آئے اور میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”ساتھ ہو لو۔“ چنانچہ میں آپ ﷺ کے ساتھ چلنے لگا، ہم تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”مڑ کر دیکھو، کیا تمہیں وہاں جہاں وہ لوگ تھے کوئی نظر آتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بہت سی سیاہی (بھیڑ) نظر آ رہی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر زمین کی طرف جھکایا اور ایک ہڈی اور مینگنی اٹھا کر ان کی طرف پھینکی اور فرمایا: ”یہ لوگ نصیبین کے وفد میں سے راہ یافتہ ہیں، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ مانگا تو میں نے ہر ہڈی اور مینگنی ان کے لیے مقرر کر دی۔“ زبیر کہتے ہیں: ”لہٰذا کسی کے لیے کبھی ہڈی یا مینگنی سے استنجا کرنا جائز نہیں۔“