حدیث نمبر: 154
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الْجُمُعَةِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَلَمَّا خَرَجَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، قَالَ لِي أَبِي: قُمْ أَيْ عَمْرُو فَانْظُرْ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: «فَقُمْتُ، فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَإِذَا هُوَ أَبْيَضُ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ، عَلَيْهِ إِزَارٌ وَرِدَاءٌ لَيْسَ عَلَيْهِ قَمِيصٌ» قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ حَتَّى نَزَلَ عَنْهُ، قُلْنَا لِأَبِي إِسْحَاقَ: فَهَلْ قَنَتَ؟ قَالَ: «لَا»
ترجمہ

… ابواسحاق کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ جمعہ کے لیے نکلا، اور میں اس وقت لڑکا تھا۔ جب علی رضی اللہ عنہ نکل کر منبر پر چڑھے تو میرے والد نے مجھ سے کہا: اے عمرو! کھڑے ہو کر امیر المومنین کو دیکھو۔ راوی کہتے ہیں: تو میں کھڑا ہوا، دیکھا تو وہ منبر پر کھڑے تھے، ان کی داڑھی اور سر سفید تھے، تہبند اور چادر پہنے ہوئے تھے، ان پر قمیص نہ تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں منبر پر بیٹھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ وہ اتر گئے۔ ہم نے ابواسحاق سے پوچھا: کیا انہوں نے قنوت پڑھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 154
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 93، حدیث 155