قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، ثَنَا أَبُو هَارُونَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنًا إِلَّا انْتَقَمَ اللهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی مومن کسی دوسرے مومن پر زیادتی اور ظلم نہیں کرتا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس سے اس کا بدلہ ضرور لے گا۔“
اس حدیث کو امام عبد بن حمید نے اپنی مسند (المنتخب) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی ابو ہارون العبدی سخت ضعیف اور متروک ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
اس حدیث کو امام عبد بن حمید نے اپنی مسند (المنتخب) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی ابو ہارون العبدی سخت ضعیف اور متروک ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الظُّلْمُ ثَلَاثَةٌ : فَظُلْمٌ لَا يَتْرُكُهُ اللهُ تَعَالَى ، وَظُلْمٌ يُغْفَرُ ، وَظُلْمٌ لَا يُغْفَرُ ، فَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ ، فَالشِّرْكُ لَا يَغْفِرُهُ اللهُ ، وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي يُغْفَرُ ، فَظُلْمُ الْعَبْدِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَمَّا الَّذِي يُتْرَكُ ، فَيُقِصُّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ظلم کی تین اقسام ہیں: ایک وہ ظلم جسے اللہ تعالیٰ (بغیر حساب و کتاب کے) نہیں چھوڑے گا، دوسرا وہ ظلم جو معاف کر دیا جائے گا، اور تیسرا وہ ظلم جو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ پس وہ ظلم جو معاف نہیں کیا جائے گا، وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے جسے اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا، اور وہ ظلم جو معاف کر دیا جائے گا، وہ بندے کا اپنے اور اپنے رب عزوجل کے درمیان معاملے میں (گناہوں کے ذریعے) اپنی جان پر ظلم کرنا ہے، اور رہا وہ ظلم جسے اللہ تعالیٰ (بغیر قصاص کے) نہیں چھوڑے گا، تو اللہ عزوجل (بروزِ قیامت) بندوں کا ایک دوسرے سے بدلہ دلوائے گا۔“
[تخريج: اسے ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند (2112) میں روایت کیا ہے، نیز دیکھیے: السلسلۃ الصحیحۃ (1927)۔ اس کی سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔]
[تخريج: اسے ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند (2112) میں روایت کیا ہے، نیز دیکھیے: السلسلۃ الصحیحۃ (1927)۔ اس کی سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔]
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ : يَجِيءُ الرَّجُلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ أَمْثَالُ الْجِبَالِ الرَّوَاسِي ، فَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَطْلُبُهُ بِمَظْلَمَةٍ ، وَيَأْخُذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ ، وَحَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ ، فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ؟ فَذَكَرَ سِتَّةً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَفِظْتُ مِنْهُمُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ وَسَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .
ترجمہ
ابو عثمان النہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا جس کی نیکیاں زمین میں گڑے ہوئے مضبوط اور بلند و بالا پہاڑوں کی مانند کثیر ہوں گی، پھر مسلسل کوئی نہ کوئی شخص آکر اس سے اپنے ساتھ کیے گئے کسی ظلم کا مطالبہ کرے گا اور اس کی نیکیوں میں سے اپنا حصہ لیتا رہے گا یہاں تک کہ اس کے پاس ایک نیکی بھی باقی نہیں رہے گی، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ (مظلوموں کے) گناہ الٹا اس کے حساب میں منتقل کر دیے جائیں گے۔“ راویِ حدیث (خالد الحذاء) کہتے ہیں کہ میں نے ابو عثمان سے دریافت کیا کہ ”آپ نے یہ بات کس سے سنی ہے؟“ تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے چھ جلیل القدر صحابہ کرام کا ذکر کیا، جن میں سے مجھے سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا حذیفہ بن یمان اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کے نام یاد رہ گئے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے اور اس کے ہم معنی مفہوم کی مکمل تائید صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2581 سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو حقیقی 'مفلس' قرار دیا ہے جس کی نیکیاں حقوق العباد کی پامالی کی وجہ سے دوسروں کو دے دی جائیں گی۔
اس روایت کی سند صحیح ہے اور اس کے ہم معنی مفہوم کی مکمل تائید صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2581 سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو حقیقی 'مفلس' قرار دیا ہے جس کی نیکیاں حقوق العباد کی پامالی کی وجہ سے دوسروں کو دے دی جائیں گی۔