المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ المظالم باب: مظالم کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الظُّلْمُ ثَلَاثَةٌ : فَظُلْمٌ لَا يَتْرُكُهُ اللهُ تَعَالَى ، وَظُلْمٌ يُغْفَرُ ، وَظُلْمٌ لَا يُغْفَرُ ، فَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ ، فَالشِّرْكُ لَا يَغْفِرُهُ اللهُ ، وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي يُغْفَرُ ، فَظُلْمُ الْعَبْدِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَمَّا الَّذِي يُتْرَكُ ، فَيُقِصُّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ظلم کی تین اقسام ہیں: ایک وہ ظلم جسے اللہ تعالیٰ (بغیر حساب و کتاب کے) نہیں چھوڑے گا، دوسرا وہ ظلم جو معاف کر دیا جائے گا، اور تیسرا وہ ظلم جو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ پس وہ ظلم جو معاف نہیں کیا جائے گا، وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے جسے اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا، اور وہ ظلم جو معاف کر دیا جائے گا، وہ بندے کا اپنے اور اپنے رب عزوجل کے درمیان معاملے میں (گناہوں کے ذریعے) اپنی جان پر ظلم کرنا ہے، اور رہا وہ ظلم جسے اللہ تعالیٰ (بغیر قصاص کے) نہیں چھوڑے گا، تو اللہ عزوجل (بروزِ قیامت) بندوں کا ایک دوسرے سے بدلہ دلوائے گا۔“
[تخريج: اسے ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند (2112) میں روایت کیا ہے، نیز دیکھیے: السلسلۃ الصحیحۃ (1927)۔ اس کی سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔]