المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ المظالم باب: مظالم کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ : يَجِيءُ الرَّجُلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ أَمْثَالُ الْجِبَالِ الرَّوَاسِي ، فَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَطْلُبُهُ بِمَظْلَمَةٍ ، وَيَأْخُذُ مِنْ حَسَنَاتِهِ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ ، وَحَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ ، فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ؟ فَذَكَرَ سِتَّةً مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَفِظْتُ مِنْهُمُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ وَسَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .ابو عثمان النہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا جس کی نیکیاں زمین میں گڑے ہوئے مضبوط اور بلند و بالا پہاڑوں کی مانند کثیر ہوں گی، پھر مسلسل کوئی نہ کوئی شخص آکر اس سے اپنے ساتھ کیے گئے کسی ظلم کا مطالبہ کرے گا اور اس کی نیکیوں میں سے اپنا حصہ لیتا رہے گا یہاں تک کہ اس کے پاس ایک نیکی بھی باقی نہیں رہے گی، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ (مظلوموں کے) گناہ الٹا اس کے حساب میں منتقل کر دیے جائیں گے۔“ راویِ حدیث (خالد الحذاء) کہتے ہیں کہ میں نے ابو عثمان سے دریافت کیا کہ ”آپ نے یہ بات کس سے سنی ہے؟“ تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے چھ جلیل القدر صحابہ کرام کا ذکر کیا، جن میں سے مجھے سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا حذیفہ بن یمان اور سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کے نام یاد رہ گئے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے اور اس کے ہم معنی مفہوم کی مکمل تائید صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2581 سے ہوتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو حقیقی 'مفلس' قرار دیا ہے جس کی نیکیاں حقوق العباد کی پامالی کی وجہ سے دوسروں کو دے دی جائیں گی۔