کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: اللہ کا حکم آنے تک اسلام کے باقی رہنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : فُتِحَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحٌ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، سُيِّبَتِ الْخَيْلُ ، وَوُضِعَ السِّلَاحُ ، وَقَدْ وَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ، وَقَالُوا : لَا قِتَالَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ ، لَا يَزَالُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يُزِيغُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ تُقَاتِلُونَهُمْ ، يَرْزُقُ اللهُ مِنْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ عَلَى ذَلِكَ ، وَعُقْرُ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ بِالشَّامِ .
ترجمہ
سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک (عظیم) فتح نصیب ہوئی، تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے، اسلحہ (نیام میں) رکھ دیا گیا ہے اور جنگ نے اپنے بوجھ اتار دیے ہیں، اور لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اب کوئی قتال و جہاد باقی نہیں رہا۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(حقیقت یہ ہے کہ) اب تو قتال کا اصل وقت آیا ہے، اور اللہ عزوجل ہمیشہ کچھ قوموں کے دلوں کو (حق سے) مائل اور منحرف کرتا رہے گا جن سے تم قتال کرو گے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے (مالِ غنیمت کی صورت میں) تمہیں رزق عطا فرمائے گا، یہاں تک کہ اسی حالت پر اللہ کا حکم (قیامت یا وفاتِ مومنین) آ جائے، اور یاد رکھو کہ اہل ایمان کے مسکن کا مرکز و محور ملکِ شام ہے۔“
تخریج: مسند أبي يعلى، حدیث نمبر: 4474، اس حدیث کی اصل صحیح مسلم (190) میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تخریج: مسند أبي يعلى، حدیث نمبر: 4474، اس حدیث کی اصل صحیح مسلم (190) میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ أَبُو عُتْبَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ دِمَشْقَ وَمَا حَوْلَهُ ، وَعَلَى أَبْوَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَا حَوْلَهُ ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ .
وَزَادَ ابْنُ حَمْدَانَ : لَا يَضُرُّهُمْ خِذْلَانُ مَنْ خَذَلَهُمْ ، ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ .
4475 \ 2 - وَقَالَ تَمَّامٌ فِي فَوَائِدِهِ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ خَذْلَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبَّادٍ ، بِهِ .
4475 \ 3 - وَأَخْرَجَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَقَالَ : لَا يَرْوِيهِ بِهَذَا اللَّفْظِ غَيْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ .
4475 \ 4 - قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو عَلِيٍّ عَبْدُ الْجَبَّارِ فِي تَارِيخِ دَارَيَّا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ خَذْلَمٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَلَبَ إِسْنَادَهُ ، جَعَلَهُ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، وَالصَّوَابُ : عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ .
4475 \ 5 - وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، مُخْتَصَرًا ، وَلَفْظُهُ : لَا يَزَالُ لِهَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ ، لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَذَلَهُمْ ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
وَزَادَ ابْنُ حَمْدَانَ : لَا يَضُرُّهُمْ خِذْلَانُ مَنْ خَذَلَهُمْ ، ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ .
4475 \ 2 - وَقَالَ تَمَّامٌ فِي فَوَائِدِهِ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ خَذْلَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبَّادٍ ، بِهِ .
4475 \ 3 - وَأَخْرَجَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَقَالَ : لَا يَرْوِيهِ بِهَذَا اللَّفْظِ غَيْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ .
4475 \ 4 - قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو عَلِيٍّ عَبْدُ الْجَبَّارِ فِي تَارِيخِ دَارَيَّا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ خَذْلَمٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَلَبَ إِسْنَادَهُ ، جَعَلَهُ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، وَالصَّوَابُ : عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ .
4475 \ 5 - وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، مُخْتَصَرًا ، وَلَفْظُهُ : لَا يَزَالُ لِهَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ ، لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَذَلَهُمْ ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت مسلسل دمشق کے دروازوں اور اس کے گرد و نواح میں، اور بیت المقدس کے دروازوں اور اس کے مضافات میں (دینِ حق کی خاطر) قتال کرتی رہے گی، اور جو لوگ ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے وہ انہیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔“ اور ابن حمدان نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے: ”ان کا ساتھ چھوڑ دینے والوں کی بے وفائی انہیں کوئی گزند نہیں پہنچائے گی، وہ حق پر غالب و نمایاں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت برپا ہو جائے۔“
امام تمام نے اپنی کتاب ’فوائد‘ میں اسے احمد بن سلیمان بن ایوب کے واسطے سے ولید بن عباد سے نقل کیا ہے۔ ابن عدی نے اسے ’الکامل‘ میں ہشام بن عمار کے طریق سے اسماعیل بن عیاش سے روایت کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اسماعیل بن عیاش کے علاوہ کوئی اور ان الفاظ کے ساتھ اسے ولید سے روایت نہیں کرتا۔ میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ ابو علی عبد الجبار نے ’تاریخ داریا‘ میں اسے احمد بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس کی سند میں ناموں کو آگے پیچھے کر دیا ہے اور اسے «عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ» ”عاصم الاحول عن ابی مسلم الخولانی“ کے واسطے سے بیان کیا ہے، جبکہ درست سند «عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ» ”عامر الاحول عن ابی صالح“ ہے۔ امام احمد نے اسے القعقاع عن ابی صالح ذکوان کے طریق سے مختصراً ان الفاظ میں روایت کیا ہے: ”اس معاملے (دین) کی خاطر ہمیشہ ایک گروہ حق پر قائم رہے گا، ان کا ساتھ چھوڑنے والوں کی مخالفت انہیں کوئی نقصان نہیں دے گی، یہاں تک کہ اللہ عزوجل کا حکم آ جائے۔“
امام تمام نے اپنی کتاب ’فوائد‘ میں اسے احمد بن سلیمان بن ایوب کے واسطے سے ولید بن عباد سے نقل کیا ہے۔ ابن عدی نے اسے ’الکامل‘ میں ہشام بن عمار کے طریق سے اسماعیل بن عیاش سے روایت کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اسماعیل بن عیاش کے علاوہ کوئی اور ان الفاظ کے ساتھ اسے ولید سے روایت نہیں کرتا۔ میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ ابو علی عبد الجبار نے ’تاریخ داریا‘ میں اسے احمد بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس کی سند میں ناموں کو آگے پیچھے کر دیا ہے اور اسے «عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ» ”عاصم الاحول عن ابی مسلم الخولانی“ کے واسطے سے بیان کیا ہے، جبکہ درست سند «عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ» ”عامر الاحول عن ابی صالح“ ہے۔ امام احمد نے اسے القعقاع عن ابی صالح ذکوان کے طریق سے مختصراً ان الفاظ میں روایت کیا ہے: ”اس معاملے (دین) کی خاطر ہمیشہ ایک گروہ حق پر قائم رہے گا، ان کا ساتھ چھوڑنے والوں کی مخالفت انہیں کوئی نقصان نہیں دے گی، یہاں تک کہ اللہ عزوجل کا حکم آ جائے۔“
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْحَضْرَمِيَّ أَيَّامَ ابْنِ الْأَشْعَثِ يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَهْلَ الشَّامِ ، أَبْشِرُوا فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَكُونُ قَوْمٌ مِنْ آخِرِ أُمَّتِي يُعْطَوْنَ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ مَا يُعْطَى أَوَّلُهُمْ ، يُقَاتِلُونَ أَهْلَ الْفِتَنِ ، يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ " وَأَنْتُمْ هُمْ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ : أَخْطَأَتِ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ .
ترجمہ
عبد الرحمن حضرمی سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن اشعث کے (خروج کے) ایام میں خطبہ دیتے ہوئے کہا: ”اے اہل شام! خوش ہو جاؤ، کیونکہ مجھے فلاں صاحب نے یہ خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے آخری دور میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں اجر و ثواب میں سے ویسا ہی حصہ عطا کیا جائے گا جیسا ان کے اولین (سلف صالحین) کو دیا گیا، وہ فتنوں میں ملوث لوگوں سے نبرد آزما ہوں گے اور برائیوں کا قلع قمع کریں گے۔“ اور (اے شامیوں!) تم وہی لوگ ہو۔“ یہ سن کر ابو البختری نے ان سے کہا: ”تیری سرین نے گڑھے کو خطا کیا (یعنی تم نے نشانہ چوک دیا ہے اور بالکل غلط اور بے محل بات کہی ہے)۔“
اس روایت کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، علامہ بوصیری نے 'اتحاف الخيرة المهرة' میں اس کی سند کو عطاء بن سائب کے اختلاط (یادداشت کی خرابی) کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم امت کے آخری لوگوں کو اجر ملنے والے مضمون کے بعض شواہد دیگر کتبِ حدیث میں بھی موجود ہیں۔
اس روایت کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، علامہ بوصیری نے 'اتحاف الخيرة المهرة' میں اس کی سند کو عطاء بن سائب کے اختلاط (یادداشت کی خرابی) کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم امت کے آخری لوگوں کو اجر ملنے والے مضمون کے بعض شواہد دیگر کتبِ حدیث میں بھی موجود ہیں۔