❮
❯
حدیث نمبر: 4477
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْغِمْرِ مَوْلَى سُمُوكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ حُدَيْجٍ ، يَقُولُ : كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ جَاءَهُ كِتَابُ عَامِلِهِ ، يُخْبِرُهُ أَنَّهُ وَقَعَ بِالتُّرْكِ وَهَزَمَهُمْ ، وَكَثْرَةَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ ، وَكَثْرَةَ مَا غَنِمَ ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ يُكْتَبَ إِلَيْهِ : قَدْ فَهِمْتُ مَا ذَكَرْتَهُ مِمَّا قَتَلْتَ وَغَنِمْتَ ، فَلَا أَعْلَمَنَّ مَا عُدْتَ لِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ ، وَلَا قَاتَلْتَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي ، قُلْتُ لَهُ : لِمَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ التُّرْكَ تُجْلِي الْعَرَبَ ، حَتَّى تُلْحِقَهَا بِمَنَابِتِ الشِّيحِ وَالْقَيْصُومِ فَأَكْرَهُ قِتَالَهُمْ لِذَلِكَ .
ترجمہ

معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا جب ان کے پاس ان کے ایک عامل (گورنر) کا خط آیا، جس میں اس نے یہ اطلاع دی تھی کہ اس کا ترکوں سے مقابلہ ہوا ہے اور اس نے انہیں شکستِ فاش دے دی ہے، نیز ان کے کثیر افراد کو قتل کرنے اور بڑی مقدار میں مالِ غنیمت حاصل کرنے کی خبر بھی دی، یہ سب جان کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سخت غضبناک ہوئے اور حکم دیا کہ اسے یہ تحریر لکھ بھیجی جائے: ”تم نے جو کچھ ترکوں کو قتل کرنے اور غنیمت سمیٹنے کے متعلق ذکر کیا ہے، وہ میں نے سمجھ لیا ہے؛ اب مجھے یہ اطلاع ہرگز نہ ملے کہ تم نے دوبارہ ایسی کسی چیز کا اعادہ کیا ہے، اور جب تک میرا واضح حکم تمہیں نہ پہنچ جائے تم ان سے ہرگز قتال نہ کرنا۔“ میں نے ان سے دریافت کیا کہ اے امیر المومنین! آپ ایسا کیوں فرما رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ترک قوم عربوں کو جلاوطن کر دے گی، یہاں تک کہ انہیں ان علاقوں کی طرف دھکیل دے گی جہاں شیح اور قیصوم (ریگستانی خود رو بوٹیاں) اگتی ہیں، پس اسی اندیشے کی بنا پر میں ان سے جنگ کرنا ناپسند کرتا ہوں۔“
مسند ابویعلیٰ: 4477، اس روایت کی سند میں بعض راویوں کے غیر معروف ہونے کی وجہ سے کلام ہے، تاہم ترکوں سے بلا ضرورت چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کا مفہوم دیگر احادیثِ صحیحہ سے بھی ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4477
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7376»