المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ بقاء الإسلام إِلَى أَنْ يأتي أَمْرِ اللَّهُ باب: اللہ کا حکم آنے تک اسلام کے باقی رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ أَبُو عُتْبَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ دِمَشْقَ وَمَا حَوْلَهُ ، وَعَلَى أَبْوَابِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَا حَوْلَهُ ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ .
وَزَادَ ابْنُ حَمْدَانَ : لَا يَضُرُّهُمْ خِذْلَانُ مَنْ خَذَلَهُمْ ، ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ .
4475 \ 2 - وَقَالَ تَمَّامٌ فِي فَوَائِدِهِ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ خَذْلَمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبَّادٍ ، بِهِ .
4475 \ 3 - وَأَخْرَجَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي عَاصِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَقَالَ : لَا يَرْوِيهِ بِهَذَا اللَّفْظِ غَيْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ .
4475 \ 4 - قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو عَلِيٍّ عَبْدُ الْجَبَّارِ فِي تَارِيخِ دَارَيَّا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ خَذْلَمٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَلَبَ إِسْنَادَهُ ، جَعَلَهُ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ ، وَالصَّوَابُ : عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ .
4475 \ 5 - وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، مُخْتَصَرًا ، وَلَفْظُهُ : لَا يَزَالُ لِهَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ ، لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَذَلَهُمْ ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت مسلسل دمشق کے دروازوں اور اس کے گرد و نواح میں، اور بیت المقدس کے دروازوں اور اس کے مضافات میں (دینِ حق کی خاطر) قتال کرتی رہے گی، اور جو لوگ ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے وہ انہیں ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔“ اور ابن حمدان نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے: ”ان کا ساتھ چھوڑ دینے والوں کی بے وفائی انہیں کوئی گزند نہیں پہنچائے گی، وہ حق پر غالب و نمایاں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت برپا ہو جائے۔“
امام تمام نے اپنی کتاب ’فوائد‘ میں اسے احمد بن سلیمان بن ایوب کے واسطے سے ولید بن عباد سے نقل کیا ہے۔ ابن عدی نے اسے ’الکامل‘ میں ہشام بن عمار کے طریق سے اسماعیل بن عیاش سے روایت کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اسماعیل بن عیاش کے علاوہ کوئی اور ان الفاظ کے ساتھ اسے ولید سے روایت نہیں کرتا۔ میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ ابو علی عبد الجبار نے ’تاریخ داریا‘ میں اسے احمد بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس کی سند میں ناموں کو آگے پیچھے کر دیا ہے اور اسے «عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ» ”عاصم الاحول عن ابی مسلم الخولانی“ کے واسطے سے بیان کیا ہے، جبکہ درست سند «عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ» ”عامر الاحول عن ابی صالح“ ہے۔ امام احمد نے اسے القعقاع عن ابی صالح ذکوان کے طریق سے مختصراً ان الفاظ میں روایت کیا ہے: ”اس معاملے (دین) کی خاطر ہمیشہ ایک گروہ حق پر قائم رہے گا، ان کا ساتھ چھوڑنے والوں کی مخالفت انہیں کوئی نقصان نہیں دے گی، یہاں تک کہ اللہ عزوجل کا حکم آ جائے۔“