المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ بقاء الإسلام إِلَى أَنْ يأتي أَمْرِ اللَّهُ باب: اللہ کا حکم آنے تک اسلام کے باقی رہنے کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْحَضْرَمِيَّ أَيَّامَ ابْنِ الْأَشْعَثِ يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَهْلَ الشَّامِ ، أَبْشِرُوا فَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَكُونُ قَوْمٌ مِنْ آخِرِ أُمَّتِي يُعْطَوْنَ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ مَا يُعْطَى أَوَّلُهُمْ ، يُقَاتِلُونَ أَهْلَ الْفِتَنِ ، يُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ " وَأَنْتُمْ هُمْ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ : أَخْطَأَتِ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ .عبد الرحمن حضرمی سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن اشعث کے (خروج کے) ایام میں خطبہ دیتے ہوئے کہا: ”اے اہل شام! خوش ہو جاؤ، کیونکہ مجھے فلاں صاحب نے یہ خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے آخری دور میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں اجر و ثواب میں سے ویسا ہی حصہ عطا کیا جائے گا جیسا ان کے اولین (سلف صالحین) کو دیا گیا، وہ فتنوں میں ملوث لوگوں سے نبرد آزما ہوں گے اور برائیوں کا قلع قمع کریں گے۔“ اور (اے شامیوں!) تم وہی لوگ ہو۔“ یہ سن کر ابو البختری نے ان سے کہا: ”تیری سرین نے گڑھے کو خطا کیا (یعنی تم نے نشانہ چوک دیا ہے اور بالکل غلط اور بے محل بات کہی ہے)۔“
اس روایت کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، علامہ بوصیری نے 'اتحاف الخيرة المهرة' میں اس کی سند کو عطاء بن سائب کے اختلاط (یادداشت کی خرابی) کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم امت کے آخری لوگوں کو اجر ملنے والے مضمون کے بعض شواہد دیگر کتبِ حدیث میں بھی موجود ہیں۔