المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الإشارة إِلَى الحجاج والمختار وغيرهما باب: حجاج، مختار اور دیگر لوگوں کی طرف اشارے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4467
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا ، مِنْهُمْ مُسَيْلِمَةُ ، وَالْعَنْسِيُّ ، وَالْمُخْتَارُ ، وَشَرُّ قَبَائِلِ الْعَرَبِ بَنُو أُمَيَّةَ ، وَبَنُو حَنِيفَةَ ، وَثَقِيفُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس (۳۰) کے قریب کذاب (جھوٹے مدعیانِ نبوت) ظاہر نہ ہو جائیں، جن میں مسیلمہ (کذاب)، (اسود) عنسی اور مختار (بن ابی عبید) بھی شامل ہیں، اور عرب کے قبائل میں سب سے برے بنو امیہ، بنو حنیفہ اور ثقیف ہیں۔“
[مسند أبي يعلى: 4467] اس روایت کی سند میں شریک بن عبداللہ القاضی اپنے حافظے کی وجہ سے اور ابواسحاق السبیعی اختلاط اور تدلیس کی وجہ سے کلام سے خالی نہیں ہیں، جس کی بنا پر اس کی صحت پر محدثین نے کلام کیا ہے۔