قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى حَفْصَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ : مَا لَكِ ؟ أَطَلَّقَكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ إِنَّهُ كَانَ قَدْ طَلَّقَكِ مَرَّةً ، ثُمَّ رَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي ، وَاللهِ إِنْ كَانَ طَلَّقَكِ مَرَّةً أُخْرَى لَا أُكَلِّمُكِ أَبَدًا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادی ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ رو رہی تھیں، تو انہوں نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا اللہ کے رسول ﷺ نے تجھے طلاق دے دی ہے؟ بیشک آپ ﷺ پہلے بھی تجھے ایک مرتبہ طلاق دے چکے تھے، پھر میری خاطر آپ ﷺ نے تجھ سے رجوع فرما لیا تھا، پس اللہ کی قسم! اگر آپ ﷺ نے تجھے دوبارہ طلاق دے دی تو میں تجھ سے کبھی کلام نہیں کروں گا۔“
مسند ابی یعلی: 4118، اس حدیث کی سند جید اور اس کے تمام رواة ثقہ ہیں۔
مسند ابی یعلی: 4118، اس حدیث کی سند جید اور اس کے تمام رواة ثقہ ہیں۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، ثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَجَاءَ خَالَاهَا ؛ قُدَامَةُ وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَبَكَتْ وَقَالَتْ : أَمَا وَاللهِ مَا طَلَّقَنِي عَنْ شِبَعٍ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَجَلْبَبَتْ ، فَقَالَ : إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - قَالَ لِي : رَاجِعْ حَفْصَةَ ، فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ ، وَإِنَّهَا زَوْجَتُكَ فِي الْجَنَّةِ .
4119 \ 2 - حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ أَوْ يَزِيدَ ، نَحْوَهُ .
4119 \ 2 - حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ أَوْ يَزِيدَ ، نَحْوَهُ .
ترجمہ
سیدنا قیس بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی، تو ان کے دونوں ماموں سیدنا قدامہ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے، اس وقت وہ (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا) رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں: ”اللہ کی قسم! انہوں نے مجھے کسی بیزاری یا دل بھر جانے کی وجہ سے طلاق نہیں دی ہے“۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بڑی چادر اوڑھ کر پردہ کر لیا، تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے کہا ہے کہ: حفصہ سے رجوع کر لیں، کیونکہ وہ «صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ» ”بہت زیادہ روزے رکھنے والی اور (راتوں کو) بکثرت عبادت کے لیے قیام کرنے والی“ ہیں، اور وہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہیں“۔
امام حارث نے اپنی مسند میں اسے روایت کیا ہے، نیز یونس بن محمد نے حماد سے، انہوں نے ابوعمران سے اور انہوں نے قیس بن زید یا یزید سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔
امام حارث نے اپنی مسند میں اسے روایت کیا ہے، نیز یونس بن محمد نے حماد سے، انہوں نے ابوعمران سے اور انہوں نے قیس بن زید یا یزید سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔