❮
❯
حدیث نمبر: 4118
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : دَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى حَفْصَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ : مَا لَكِ ؟ أَطَلَّقَكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ إِنَّهُ كَانَ قَدْ طَلَّقَكِ مَرَّةً ، ثُمَّ رَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي ، وَاللهِ إِنْ كَانَ طَلَّقَكِ مَرَّةً أُخْرَى لَا أُكَلِّمُكِ أَبَدًا .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادی ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ رو رہی تھیں، تو انہوں نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا اللہ کے رسول ﷺ نے تجھے طلاق دے دی ہے؟ بیشک آپ ﷺ پہلے بھی تجھے ایک مرتبہ طلاق دے چکے تھے، پھر میری خاطر آپ ﷺ نے تجھ سے رجوع فرما لیا تھا، پس اللہ کی قسم! اگر آپ ﷺ نے تجھے دوبارہ طلاق دے دی تو میں تجھ سے کبھی کلام نہیں کروں گا۔“
مسند ابی یعلی: 4118، اس حدیث کی سند جید اور اس کے تمام رواة ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب المناقب / حدیث: 4118
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 305»