المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
ذِكْرِ حفصة رضي اللَّهُ عنها باب: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، ثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - فَجَاءَ خَالَاهَا ؛ قُدَامَةُ وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَبَكَتْ وَقَالَتْ : أَمَا وَاللهِ مَا طَلَّقَنِي عَنْ شِبَعٍ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَجَلْبَبَتْ ، فَقَالَ : إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - قَالَ لِي : رَاجِعْ حَفْصَةَ ، فَإِنَّهَا صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ ، وَإِنَّهَا زَوْجَتُكَ فِي الْجَنَّةِ .
4119 \ 2 - حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ أَوْ يَزِيدَ ، نَحْوَهُ .سیدنا قیس بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی، تو ان کے دونوں ماموں سیدنا قدامہ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے، اس وقت وہ (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا) رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں: ”اللہ کی قسم! انہوں نے مجھے کسی بیزاری یا دل بھر جانے کی وجہ سے طلاق نہیں دی ہے“۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بڑی چادر اوڑھ کر پردہ کر لیا، تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے کہا ہے کہ: حفصہ سے رجوع کر لیں، کیونکہ وہ «صَوَّامَةٌ قَوَّامَةٌ» ”بہت زیادہ روزے رکھنے والی اور (راتوں کو) بکثرت عبادت کے لیے قیام کرنے والی“ ہیں، اور وہ جنت میں بھی آپ کی زوجہ ہیں“۔
امام حارث نے اپنی مسند میں اسے روایت کیا ہے، نیز یونس بن محمد نے حماد سے، انہوں نے ابوعمران سے اور انہوں نے قیس بن زید یا یزید سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔